مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
من كره المسألة ونهى عنها (وشدد) فيها باب: سوال کرنے کی ممانعت اور اس پر وعید اور تشدید
حدیث نمبر: 10981
١٠٩٨١ - حدثنا ابن فضيل عن عمارة بن القعقاع عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من سأل الناس أموالهم (تكثرًا) (١) فإنما (يسأل) (٢) ⦗٣٧٩⦘ جمرة (فليستقل) (٣) منه أو (ليستكثر) (٤) " (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبشی السلولی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص لوگوں سے اپنا مال زیادہ کرنے کے لیے سوال کرتا ہے تو یہ سوال اس کے چہرہ میں خراش اور جہنم کا گرم پتھر ہے جس کو بروز قیامت کھائے گا۔
حواشی
(١) في [ح]: (كثيرًا).
(٢) في [ح]: (تسأل).
(٣) في [أ]: (فلا يستقل).
(٤) في [ب]: (ليكثر).