مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
من كره المسألة ونهى عنها (وشدد) فيها باب: سوال کرنے کی ممانعت اور اس پر وعید اور تشدید
حدیث نمبر: 10980
١٠٩٨٠ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد الملك (بن) (١) عمير عن عقبة (أو فلان بن عقبة) (٢) عن ابن (جندب) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (كل) (٤) المسألة كد في وجه الرجل يوم القيامة إلا أن (يسأل) (٥) سلطانًا أو في أمر لا بد منه" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرے مال کی زیادتی کے لئے تو بیشک وہ انگارے کا سوال کر رہا ہے پس چاہے تو اس انگارے کو کم کرلے یا چاہے تو زیادہ کرلے۔
حواشی
(١) في [ك]: (عن).
(٢) سقط من: [ح].
(٣) في [أ، ح]: (حبيب).
(٤) في [ح، هـ]: (أكل).
(٥) في [أ، ح]: (تسأل).