مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
في المملوك (يكون) بين رجلين عليه صدقة الفطر باب: ایک غلام اگر دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو تو کیا اس پر صدقۃ الفطر ہے؟
١٠٩٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الحويرث (عن ⦗٣٧٢⦘ أبي عمار) (١) عن أبي هريرة قال: ليس في المملوك زكاة إلا مملوك تملكه (٢).حضرت زیاد بن ابو مریم اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ حضرت عبد اللہ بن ارقم کے پاس آئیں۔ وہ حضرت عمر اور حضرت عثمان کی امارت میں بیت المال (کے نگران) تھے۔ اور وہ صدقہ (زکوٰۃ) تقسیم فرما رہے تھے مدینہ والوں کے ساتھ، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو فرمایا : اے ام زیاد تو یہاں کیوں آئی ؟ تو میں نے جواب دیا کہ جس مقصد کے لیے باقی لوگ آئے ہیں میں بھی اس ہی مقصد سے آئی ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تو آزاد ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں، تو انہوں نے کسی کو گھر بھیجا جو چادر لے کر آیا۔ آپ نے وہ مجھے دے دی۔ لیکن صدقہ (زکوٰۃ) میں سے کچھ نہ دیا۔ کیونکہ میں اس وقت مملوکہ تھی۔