حدیث نمبر: 10957
١٠٩٥٧ - حدثنا شريك عن (جابر) (١) عن شريك (بن) (٢) نملة (قال) (٣): ⦗٣٧١⦘ بعثني علي ساعيًا على الصدقة قال: فصحبني أخي، فتصدقت، قال: فحملت أخي على بعير فقلت: إن (أجازه) (٤) علي وإلا فهو من مالي، فلما قدمت (عليه) (٥) قصصت عليه قصة أخي فقال: لك فيه (نصيب) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سالم سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے حضرت اسلم کو زکوٰۃ کے اونٹ دے کر حمی مقام کی طرف بھیجا۔ فرماتے ہیں کہ جب میں واپس لوٹنے لگا تو فرمایا ان کو میرے سامنے پیش کر، میں نے اس حال میں پیش کیا کہ ان میں سے ایک اونٹنی پر میرا سامان تھا۔ آپ نے (غصہ میں) فرمایا تیری ماں نہ رہے۔ میں نے ارادہ کیا تھا کہ اونٹنی کے ذریعہ مسلمانوں کے اہل بیت کو زندہ کیا جائے تو نے اس پر اپنا سامان لاد دیا کیا بہت زیادہ پیشاب کرنے والا ابن لبون یا کم دودھ دینے والی اونٹنی نہ تھی (اس کا م کیلئے) ۔

حواشی
(١) في [أ، ص، ز، هـ]: (جابر)، والمشهور في اسمه: (حاجز)، وقد روى عن اسمه (جابر)؛ وانظر: التاريخ الكبير ٤/ ٢٨٣ و ٣/ ١١٣، والجرح والتعديل ٣/ ٣٠٥ و ٤/ ٣٦٤ والثقات ٦/ ٢٤٥ وتهذيب الكمال ١٢/ ٤٧٨ والعلل لأحمد ١/ ٣٦١.
(٢) في [ز]: (عن).
(٣) تكرر في: [ب، ز، ك].
(٤) في [أ، ح]: (جازه).
(٥) سقط من: [ب].
(٦) في [ح]: (نصيبان).
(٧) مجهول؛ لجهالة جابر وشريك بن نملة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10957
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10957، ترقيم محمد عوامة 10752)