حدیث نمبر: 10920
١٠٩٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن عمرو بن ميمون قال: أخذ (الوليد بن عبد الملك) (١) مال رجل من أهل الرقة يقال له أبو عائشة عشرين ألفًا (فألقاها) (٢) في بيت المال، فلما ولي عمر بن عبد العزيز، أتاه ولده، فرفعوا مظلمتهم إليه، فكتب إلى ميمون: ادفعوا إليهم أموالهم وخذوا زكاة عامه هذا، فلولا أنه كان مالًا ضمارًا أخذنا منه زكاة ما مضى.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت میمون سے مروی ہے کہ ایک شخص کا مال بعض مظالم کی وجہ سے اس سے لے کر بیت المال میں داخل کردیا گیا۔ جب حضرت عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے، تو اس نے یہ بات آپ تک پہنچائی، حضرت عمر بن عبد العزیز نے لکھا اس کا مال اس کو واپس کردو اور گذرے ہوئے سالوں کی زکوٰۃ بھی وصول کرلو پھر اس کے بعد دوبارہ لکھا کہ اس کا مال اس کو واپس کردو اور اس کی زکوٰۃ اس سال کی وصول کرلو کیونکہ یہ ایسا مال ہے جس کی واپسی کی امید نہ تھی۔

حواشی
(١) في [ب، هـ]: (الوالي في زمن).
(٢) في [ب، هـ]: (فأدخلت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10920
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10920، ترقيم محمد عوامة 10717)