مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
من قال: لا تحل له الصدقة إذا ملك خمسين درهما باب: جس شخص کے پاس پچاس درہم موجود ہوں اسکو زکوٰۃ دینا جائز نہیں
حدیث نمبر: 10725
١٠٧٢٥ - حدثنا وكيع عن [سفيان (عن) (١) (حكيم) (٢) بن جبير عن] (٣) محمد بن عبد الرحمن [(بن) (٤) يزيد عن أبيه عن] (٥) عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من (سأل) (٦) وله ما يغنيه كان (خدوشًا) (٧) أو (كدوحًا) (٨) (يوم القيامة) (٩) "، (قيل) (١٠): يا رسول اللَّه وما غناؤه؟ قال: " (خمسون) (١١) درهمًا ⦗٣١٠⦘ أو حسابها من الذهب" (١٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے غنی ہونے کے باوجود سوال کیا قیامت کے دن وہ اپنے چہرے اور جسم کو نوچتا ہوا حاضر ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ غناء کی مقدار کتنی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پچاس درہم یا اس کی بقدر سونا (جس کے پاس ہو وہ غنی ہے) ۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ص، ز، ك]: (بن).
(٢) في [ص، ز]: (حكم).
(٣) في [ب]: بياض.
(٤) في [أ، ب، ص، هـ]: (عن).
(٥) في [ب]: بياض.
(٦) في [ب]: (سألنا).
(٧) في [ب]: (حذوسًا).
(٨) في [س، هـ]: (كدوشًا).
(٩) في [ط، هـ]: (في وجهه).
(١٠) في [ك]: (قالوا).
(١١) في [ف، ب، ك]: (خمسين).