مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما قالوا فيما يسقى سيحا وبالدوالي باب: جس زمین کو جاری پانی اور ڈول سے سیراب کیا ہو اس پر زکوٰۃ میں جو فقہاء کہتے ہیں اس کے بیان میں
١٠٣٦٠ - حدثنا محمد بن (١) بكر عن ابن (جريج) (٢) قال: أخبرني موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر أنه كان (يقول) (٣): صدقة الثمار والزرع وما كان من نخل أو زرع من حنطة أو شعير أو سلت (مما) (٤) كان بعلًا أو يسقي (بنهر) (٥) أو ⦗٢٢٥⦘ يسقي (بالعين) (٦) أو (عثريا) (٧)، (و) (٨) (ما) (٩) يسقي بالمطر ففيه العشر [(من) (١٠) كل عشرة واحد] (١١)، وما كان منه يسقى بالنضح ففيه نصف العشر (في) (١٢) كل عشرين واحد (١٣).حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پھلوں پر زکوٰۃ اور کھیتی کی زکوٰۃ خواہ وہ کھجور ہو، گندم ہو یا جو ہو یا جو کی ہی کوئی نوع، یا پھر اسکو نہر سے سیراب کیا جاتا ہو یا چشمے کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو یا اسکو بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو ان پر عشر ہے یعنی دس پر ایک، اور جس زمین کو ڈول سے سیراب کیا جاتا ہو اس پر نصف عشر ہے یعنی بیس پر ایک، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حارث بن عبد کلال اور دوسرے حضرات کو یمن میں لکھ کر بھیجا تھا کہ مؤمنین کے وہ اموال (زمین) جن کو چشمہ کے پانی سے سیراب کیا جائے یا آسمان کے پانی سے سیراب کیا جائے اس پر عشر ہے اور جس کو سیراب کیا جائے ڈول سے اس پر نصف عشر ہے۔