حدیث نمبر: 10162
١٠١٦٢ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي قال: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى اليمن: "أن يؤخذ من الإبل من كل خمس شاة [و (من) (١) كل عشر شاتان، ⦗١٧١⦘ و (من) (٢) (٣) خمسة عشر ثلاث شياه، ومن عشرين أربع شياه، ومن خمس وعشرين خمس شياه] (٤)، فإذا زادت واحدة ففيها بنت مخاض إلى خمس وثلاثين، فإن لم تجد في الإبل بنت مخاض فابن لبون ذكر، (فإذا) (٥) زادت واحدة ففيها بنت لبون إلى [خمس وأريعين فإن زادت واحدة (ففيها حقة إلى ستين، فإن زادت واحدة) (٦) ففيها جذعة إلى خمس وسبعين، فإن زادت واحدة ففيها (بنتا) (٧) لبون] (٨) إلى (تسعين) (٩)، فإن زادت واحدة ففيها حقتان إلى عشرين ومائة فإذا كثرت الإبل ففي كل خمسين حقة وفي كل أربعين بنت لبون، ولا يفرق بين مجتمع (ولا يجمع بين) (١٠) (مفترق) (١١) (١٢) ولا يؤخذ في الصدقة (تيس) (١٣) (ولا) (١٤) هرمة ولا ذات (عوار) (١٥) " (١٦). ⦗١٧٢⦘ - قال الأجلح: فقلت للشعبي: ما يعني بقوله: لا يجمع بين مفترق ولا يفرق بين مجتمع؟ قال: الرجل (تكون) (١٧) له الغنم فلا يفرقها كي لا يؤخذ منها (صدقة) (١٨) (ولا يجمع بين مفترق): القوم (تكون) (١٩) لهم الغنم لا (تجب) (٢٠) (فيها) (٢١) الزكاة فلا (تجمع) (٢٢) (فتؤخذ) (٢٣) منها (الصدقة) (٢٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن (کے قاضی کو) لکھا : پانچ اونٹوں پر ایک بکری زکوٰۃ ہے، اور دس اونٹوں پر دو بکریاں، اور پندرہ اونٹوں پہ تین بکریاں اور بیس اونٹوں پہ چار اور پچیس اونٹوں پہ پانچ بکریاں اور پچیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو اس پر بنت مخاض ہے پینتیس اونٹوں تک، اور اگر زکوٰۃ میں دینے کیلئے بنت مخاض نہ پائے تو مذکر ابن لبون دیدے۔ اور جب پینتیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پینتالیس تک ایک بنت لبون ہے، جب پینتالیس سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ساٹھ تک ایک حقہ ہے، جب ساٹھ اونٹوں سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو پچھتر اونٹوں تک ایک جذعہ ہے اور جب پچھتر سے ایک زائد ہوجائے تو اس پر دو بنت لبون ہیں۔ نوے تک اسی طرح ہے، جب نوے سے ایک اونٹ زائد ہوجائے تو ایک سو بیس تک دو حقے ہیں، پھر جب اونٹ ایک سے بیس سے بھی زائد ہوجائیں تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون آئے گا، اور متفرق کو جمع اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرتے وقت بہت چھوٹا یا بہت بوڑھا جانور وصول نہیں کیا جائے گا (بلکہ درمیانہ وصول کیا جائے گا) اور نہ کانا اور بہت کمزور جانور وصول کیا جائے گا۔ اجلح راوی فرماتے ہیں کہ میں نے اما م شعبی سے پوچھا کہ لاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کے پاس چوپائے ہوں تو وہ اس نیت سے ان کو متفرق نہ کرے تا کہ متفرق (جب نصاب زکوٰۃ نہ پہنچے تو اس پر) پر زکوٰۃ نہ آئے اور نہ ہی متفرق کو جمع کرے یعنی کسی قوم کے پاس چوپائے تو ہوں لیکن ان پہ زکوٰۃ نہ آرہی ہو تو مصدق (زکوٰۃ وصول کرنے والا) ان سب کو ایک ساتھ جمع کر کے زکوٰۃ وصول نہ کرے۔

حواشی
(١) في [ص]: (في).
(٢) في [ص]: (في).
(٣) في [ك] زيادة: (كل).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٥) في [ص]: (فإن).
(٦) في [ح]: سقط ما بين القوسين.
(٧) في [ص]: (بنت).
(٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٩) في [أ، ب]: (سبعين).
(١٠) في [ص]: سقط ما بين القوسين.
(١١) في [أ، ب]: (متفرق).
(١٢) في [ص] زيادة: (ولا يفرق بين).
(١٣) في [أ، ب، ك، ح، ز]: (تيسًا) وكذلك: [ص].
(١٤) سقطت في [ص].
(١٥) في [ك]: (غوار).
(١٦) مرسل.
(١٧) في [أ، ب، ص]: (يكون).
(١٨) في [أ، ب، ص، ز، ك] سقطت: (صدقة).
(١٩) في [أ، ب، ص]: (يكون).
(٢٠) في [ص]: (يجب).
(٢١) في [أ، ب] سقطت: (فيها).
(٢٢) في [أ، ب، ص]: (يجمع).
(٢٣) في [أ، ب، ص]: (فيؤخذ).
(٢٤) في [ز]: (الصدق).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10162
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10162، ترقيم محمد عوامة 9991)