حدیث نمبر: 10157
١٠١٥٧ - حدثنا ابن مبارك عن (بهز) (١) بن حكيم عن أبيه عن جده قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "في كل إبل سائمة (أربعين) (٢) بنت لبون، لا يفرق إبل عن حسابها من أعطاها (مؤتجرا) (٣) فله أجره، عزمة من عزمات ربنا، لا يحل (لآل) (٤) محمد منها شيء" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت بہز بن حکیم اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چرنے والے اونٹ اگر چالیس ہوجائیں تو اس پر ایک بنت لبون زکوٰۃ ہے، اونٹ کو اس کے حساب سے جدا نہیں کریں گے، اور جو شخص زکوٰۃ ادا کرے اللہ تعالیٰ سے اجر طلب کرتے ہوئے تو اسکے لئے اسکا اجر ہے، عزیمۃ ہے ہمارے رب کی عزیمتوں میں سے۔ ٰال محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیلئے زکوٰۃ میں سے کوئی چیز بھی حلال نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [ص، ز، هـ]: (حرام)؛ وفي [ك]: (بياض).
(٢) سقط من: [أ، ب، ح، ص، ز، ك].
(٣) في [ح]: (متجرا).
(٤) في [ص]: (لا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزكاة / حدیث: 10157
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ بهز بن حكيم وأبوه صدوقان، أخرجه أحمد (٢٠٠١٦)، وأبو داود (١٥٧٥)، والنسائي ٥/ ٢٥، وابن خزيمة (٢٢٦٦)، والحاكم ١/ ٣٩٨، وأبو عبيد في الأموال (٩٨٧)، وابن زنجويه (١٤٤٣)، والدارمي (١٦٧٧)، والطحاوي ٢/ ٩، والطبراني ١٩/ (٩٨٤) والبيهقي (٤/ ١٠٥)، وابن حزم في المحلى ٦/ ٥٧، والخطيب ٩/ ٤٤٨، وابن الجارود (٣٤١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10157، ترقيم محمد عوامة 9986)