مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزكاة
ما جاء في الحث على الصدقة وأمرها باب: یہ باب صدقہ کی ترغیب اور اس کے حکم کے بیان میں ہے
حدیث نمبر: 10067
١٠٠٦٧ - حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن (ذر) (١) عن وائل بن (مهانة) (٢) عن عبد اللَّه (قال) (٣): قال رسول اللَّه ﷺ: " (تصدقن) (٤) يا معشَرَ ⦗١٤٠⦘ النساء فإنكن أكثر أهل جهنَّم"، فقالت امرأة ليست من علية النساء: (بم) (٥) ذلك يا رسول اللَّه؟ قال: "لأنكن تكثرن (اللعن) (٦) وتكفرن العشير" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو، بیشک تم میں سے جہنم میں جانے والی زیادہ ہیں، ایک خاتون نے عرض کیا جو برسر آوردہ خواتین میں سے نہیں تھی ایسا کیوں اور کس وجہ سے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ تم لعن طعن بہت زیادہ کرتی ہو اور اپنے خاوند کی نا شکری ونا فرمانی کرتی ہو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ص، ز، ك، ح]: (زر).
(٢) في [هـ، ص، ب]: (مهاجر).
(٣) في [ز]: (فقال).
(٤) في [أ، ب]: (تصدقوا).
(٥) في [ك، ح]: (مم).
(٦) في [أ، ب]: (العرق).
(٧) مجهول؛ لجهالة وائل بن مهانة، أخرجه أحمد (٣٥٦٩) والنسائي في الكبرى (٩٢٥٧) وأبو يعلي (٥١١٢) والحاكم ٢/ ١٩٠، والحميدي (٩٢)، وابن عبد البر في التمهيد ٣/ ١١٠، والمزي في التهذيب ٦/ ٤٥، وابن حبان (٣٣٢٣)، والطيالسي (٣٨٤)، والدارمي ١/ ٢٣٧، والشاشي (٨٧١).