کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدہ فاطمہ بنت مجلل بن عبداللہ بن ابی قیس بن عبد ود بن نصر بن عامر بن لؤی بن غالب رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا بَشَّارُ بْنُ مُوسَى الْخَفَّافُ كُلُّهُمْ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي عُثْمَانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ بِنْتِ الْمُجَلِّلِ، قَالَتْ: أَقْبَلَتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبِيخًا، فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ، فَتَنَاوَلْتُ الْقِدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ، فَقَدِمْتُ بِكَ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سُمَيَّ بِكَ، فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِكَ، وَدَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ، وَتَفَلَ فِي فِيكَ، ثُمَّ جَعَلَ يَتْفُلُ عَلَى يَدِكَ، وَيَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقْماءَ» ، فَمَا قُمْتُ بِكَ مِنْ عِنْدِهِ حَتَّى بَرِئَتْ يَدَكَ
ترجمہ
… یہ محمد بن حاطب ہے، اور یہ پہلا شخص ہے جس کا نام آپ ﷺ کے نام پر رکھا گیا، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر پھیرا، اس کے لیے برکت کی دعا کی، اس کے منہ میں تھوک ڈالا، پھر اس کے ہاتھ پر تھوکنے لگے اور فرمانے لگے: ”اے لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے، اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔“ تو میں تجھے لے کر آپ ﷺ کے پاس سے نہیں اٹھی تھی کہ تیرا ہاتھ ٹھیک ہو چکا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21270
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 363، حدیث 902
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: تَنَاوَلْتُ مِنْ قِدْرٍ لَنَا فَاحْتَرَقَتْ يَدِي، فَانْطَلَقَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ جَالِسٍ فِي الْجَبَّانَةِ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «لَبَّيْكِ وَسَعْدَيْكِ» ، ثُمَّ أَدْنَتْنِي مِنْهُ فَجَعَلَ يَنْفُثُ، وَيَتَكَلَّمُ كَلَامًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَسَأَلَتْ أُمِّي بَعْدَ ذَلِكَ: مَا كَانَ يَقُولُ؟ فَقَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِي إِلَّا أَنْتَ»
ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی ہانڈی سے کوئی چیز اٹھائی تو میرا ہاتھ جل گیا، تو میری والدہ مجھے لے کر قبرستان میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کے پاس گئیں اور ان سے کہا: یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لبیک وسعدیک۔“ پھر انہوں نے مجھے آپ ﷺ کے قریب کیا تو آپ ﷺ پھونکنے لگے اور کچھ ایسے الفاظ کہنے لگے جو مجھے معلوم نہ ہو سکے، تو میں نے بعد میں اپنی والدہ سے پوچھا: آپ ﷺ کیا کہہ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے، شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21271
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 364، حدیث 903