المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
فاطمة بنت المجلل بن عبد الله بن أبي قيس بن عبد ود بن نصر بن عامر بن لؤي بن غالب باب: سیدہ فاطمہ بنت مجلل بن عبداللہ بن ابی قیس بن عبد ود بن نصر بن عامر بن لؤی بن غالب رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 21271
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: تَنَاوَلْتُ مِنْ قِدْرٍ لَنَا فَاحْتَرَقَتْ يَدِي، فَانْطَلَقَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ جَالِسٍ فِي الْجَبَّانَةِ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «لَبَّيْكِ وَسَعْدَيْكِ» ، ثُمَّ أَدْنَتْنِي مِنْهُ فَجَعَلَ يَنْفُثُ، وَيَتَكَلَّمُ كَلَامًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَسَأَلَتْ أُمِّي بَعْدَ ذَلِكَ: مَا كَانَ يَقُولُ؟ فَقَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِي إِلَّا أَنْتَ»ترجمہ
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی ہانڈی سے کوئی چیز اٹھائی تو میرا ہاتھ جل گیا، تو میری والدہ مجھے لے کر قبرستان میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کے پاس گئیں اور ان سے کہا: یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لبیک وسعدیک۔“ پھر انہوں نے مجھے آپ ﷺ کے قریب کیا تو آپ ﷺ پھونکنے لگے اور کچھ ایسے الفاظ کہنے لگے جو مجھے معلوم نہ ہو سکے، تو میں نے بعد میں اپنی والدہ سے پوچھا: آپ ﷺ کیا کہہ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے، شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔“