حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي وَكَانَتْ قَدْ حَجَّتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ أَوِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا وَيُنَزِّلُ هَذَا فَكُنَّا نَتَعَلَّقُ بِهِ كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ "
ترجمہ
سیدہ انیسہ بنت خبیب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے - وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کر چکی تھیں - وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال رات کو اذان دیتے ہیں، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ بلال یا ابن ام مکتوم اذان دیں۔“ اور ان میں سے ایک چڑھتا اور دوسرا اترتا تھا، تو ہم اسے پکڑ کر کہتے: ٹھہرو، یہاں تک کہ ہم سحری کر لیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ وَكَانَتْ مُصَلِّيَةً، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ أَوْ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ أَوِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» وَمَا كَانَ إِلَّا يُؤَذِّنُ أَحَدُهُمَا حَتَّى يَصْعَدَ الْآخَرُ فَنَأْخُذَهُ بِيَدِهِ فَنَقُولُ كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ "
ترجمہ
سیدہ انیسہ رضی اللہ عنہا - جو کثرت سے نماز پڑھنے والی تھیں - نبی کریم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم یا بلال رات کو اذان دیتے ہیں، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ بلال یا ابن ام مکتوم اذان دیں۔“ اور ان میں سے جیسے ہی ایک اذان دیتا، دوسرا سیڑھی پر چڑھ جاتا، تو ہم اس کا ہاتھ پکڑ کر کہتے: ٹھہرو، یہاں تک کہ ہم سحری کر لیں۔