المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أميمة مولاة رسول الله صلى الله عليه وسلم باب: سیدہ امیمہ رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، كِلَاهُمَا، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أُمَيْمَةَ، مَوْلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَصُبُّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَهُ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَوْصِنِي، فَقَالَ: «لَا تُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ بِالنَّارِ، وَلَا تَعْصِيَنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تُخَلِّي عَنْ أَهْلِكَ وَدُنْيَاكَ فَتُخَلِّهِ، وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا فَإِنَّهَا رَأْسُ كُلِّ شَرٍّ، وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مُتَعَمِّدًا، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، وَلَا تَفِرَّنَّ يَوْمَ الزَّحْفِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بَاءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللهِ، وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ، وَلَا تَزْدَادَنَّ فِي تُخُومِ أَرْضِكَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ يَأْتِي بِهِ عَلَى رَقَبَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مِقْدَارِ سَبْعِ أَرَضِينَ، وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ، وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ، وَأَخِفْهُمْ فِي اللهِ»سیدہ امیمہ رضی اللہ عنہا، جو رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ باندی تھیں، کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کو وضو کے لیے پانی ڈالا کرتی تھی، اسی دوران ایک شخص آیا اور کہنے لگا: مجھے نصیحت فرمائیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، خواہ تجھے کاٹ دیا جائے اور آگ میں جلا دیا جائے، اور اپنے والدین کی نافرمانی ہرگز نہ کرنا، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ اپنے اہل و مال کو چھوڑ دے تو انہیں چھوڑ دینا، اور کبھی شراب نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی جڑ ہے، اور جان بوجھ کر کبھی نماز نہ چھوڑنا، کیونکہ جو ایسا کرے اس سے اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری بری ہو جاتی ہے، اور جنگ کے دن میدان سے ہرگز نہ بھاگنا، کیونکہ جو ایسا کرے وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے، اور اپنی زمین کی حدود میں ظلماً کبھی اضافہ نہ کرنا، کیونکہ جو ایسا کرے وہ قیامت کے دن سات زمینوں کے برابر زمین اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا، اور اپنی وسعت کے مطابق اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا، اور ان سے اپنی لاٹھی (یعنی تربیت و نگرانی) نہ اٹھانا، اور انہیں اللہ کے بارے میں ڈراتے رہنا۔“