حدیث نمبر: 20853
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَبَّابٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتَ عَدِيٍّ، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، ابْنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ أَحْبَبْتُ أَنْ أَنْقُلَهُ فَآنَسُ بِقُرْبِهِ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَدَلَتْهُ بِالْمِجْذَرِ بْنِ زِيَادٍ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ فِي عَبَاءَةٍ، فَمَرَّتْ بِهِمَا فَعَجِبَ لَهُمَا النَّاسُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «سَوَّى بَيْنَهُمَا عَمَلُهُما» وَكَانَ عَبْدُ اللهِ رَجُلًا جَسِيمًا ثَقِيلًا وَكَانَ الْمِجْذَرُ قَلِيلُ اللَّحْمِ وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ:
[البحر الرجز]
أَنَا الَّذِي أُصَلِّي مِنْ بِلَى ... أَطْعَنُ بِالصَّعْدَةِ حَتَّى تَنْثَنِي
وَلَا تَرَى مِجْذَرًا يَفْرِي فَرِيِّ "
ترجمہ

رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ کو مجذر بن زیاد کے ساتھ ایک پانی ڈھونے والے اونٹ پر ایک عباء میں جوڑ دیا، وہ دونوں اس حال میں گزرے تو لوگ انہیں دیکھ کر حیران ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”ان دونوں کے عمل نے انہیں برابر کر دیا۔“ عبداللہ ایک فربہ اور بھاری بھرکم آدمی تھے، جبکہ مجذر دبلے پتلے تھے، اور وہی ہیں جو یہ کہتے تھے: میں وہ ہوں جو بڑھاپے کے باوجود (اللہ کی راہ میں) نماز جیسا ثابت قدم رہتا ہوں... نیزے سے ایسا وار کرتا ہوں کہ وہ جھک جاتا ہے
اور تم مجذر کو کبھی اپنے کام میں کوتاہی کرتے نہیں دیکھو گے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20853
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 192، حدیث 483