المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أنيسة بنت عدي باب: سیدہ انیسہ بنت عدی رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَبَّابٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَلَوِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتَ عَدِيٍّ، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، ابْنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ أَحْبَبْتُ أَنْ أَنْقُلَهُ فَآنَسُ بِقُرْبِهِ، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَدَلَتْهُ بِالْمِجْذَرِ بْنِ زِيَادٍ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ فِي عَبَاءَةٍ، فَمَرَّتْ بِهِمَا فَعَجِبَ لَهُمَا النَّاسُ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «سَوَّى بَيْنَهُمَا عَمَلُهُما» وَكَانَ عَبْدُ اللهِ رَجُلًا جَسِيمًا ثَقِيلًا وَكَانَ الْمِجْذَرُ قَلِيلُ اللَّحْمِ وَهُوَ الَّذِي يَقُولُ:
[البحر الرجز]
أَنَا الَّذِي أُصَلِّي مِنْ بِلَى ... أَطْعَنُ بِالصَّعْدَةِ حَتَّى تَنْثَنِي
وَلَا تَرَى مِجْذَرًا يَفْرِي فَرِيِّ "سیدہ انیسہ بنت عدی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا بیٹا عبداللہ بن سلمہ - جو بدری صحابی تھا - احد کے دن شہید ہو گیا ہے، میں چاہتی ہوں کہ اسے منتقل کر لوں تاکہ اس کی قربت سے مجھے تسکین ملے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ انہوں نے اسے مجذر بن زیاد رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے ایک پانی ڈھونے والے اونٹ پر ایک عباء میں جوڑ دیا، وہ انہیں لے کر گزریں تو لوگ انہیں دیکھ کر حیران ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”ان دونوں کے عمل نے انہیں برابر کر دیا۔“ عبداللہ ایک فربہ اور بھاری بھرکم آدمی تھے، جبکہ مجذر دبلے پتلے تھے، اور وہی ہیں جو یہ رجز کے اشعار کہا کرتے تھے: میں وہ ہوں جس کی اصل (قبیلہ) بلی سے ہے، نیزے سے ایسا وار کرتا ہوں کہ وہ ٹیڑھا ہو جاتا ہے
اور تم کسی مجذر کو میرے جیسے کارنامے انجام دیتے نہیں دیکھو گے۔