کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عروہ بن زبیر کی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سُبْحَانَ اللهِ، هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ، لِتَجْلِسَ فِي مِرْكَنٍ، فَإِذَا رَأَتْ صَفَارَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا، ثُمَّ تَوَضَّأْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فاطمہ بنت ابی حبیش کو فلاں فلاں وقت سے استحاضہ (بے قاعدہ خون) آ رہا ہے اور وہ نماز نہیں پڑھ سکیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ شیطان کی طرف سے ہے، وہ ایک ٹب میں بیٹھ جائے، جب وہ پانی کے اوپر زردی دیکھے تو ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے، اور اس کے درمیان وضو کرتی رہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ تُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَقْدِمَهُمْ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ جَاءَ يُعَيِّرُهُمْ بِالْمُكْثِ فِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَسْتُمْ كَذَلِكَ»
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب وہ حبشہ کی سرزمین سے آئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آ کر انہیں حبشہ میں ٹھہرنے پر طعنہ دیا۔ وہ کہتی ہیں: میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ کو بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایسے نہیں ہو۔“