کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: یعلیٰ بن حرملہ، ابوابی المحیاۃ، کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ أَبِيهِ يَعْلَى بْنِ حَرْمَلَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ بَعْدَمَا صُلِبَ أَوْ قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكَلَّمَتُ أُمُّهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الْحَجَّاجَ، فَقَالَتْ: أَمَا آنْ لِهَذَا الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ؟ قَالَ: الْمُنَافِقُ، قَالَتْ: لَا وَاللهِ مَا كَانَ مُنَافِقًا، وَلَقَدْ كَانَ صَوَّامًا قِوَامًا، قَالَ: اسْكُتِي فَإِنَّكِ عَجُوزٌ قَدْ خَرِفْتِ، قَالَتْ: مَا خَرِفْتُ، مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ تَعْنِي الْمُخْتَارَ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ " زَادَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: فَقَالَ الْحَجَّاجُ فِي حَدِيثِهِ مُبِيرُ الْمُنَافِقِينَ
ترجمہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نہیں، اللہ کی قسم! وہ منافق نہیں تھا، بلکہ وہ بہت روزہ رکھنے والا اور بہت عبادت گزار تھا۔“ اس نے کہا: خاموش ہو جاؤ، تم بڑھیا ہو، تمہاری عقل ماؤف ہو چکی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”میری عقل ماؤف نہیں ہوئی، جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہ کن نکلے گا۔ جہاں تک جھوٹے کا تعلق ہے تو ہم نے اسے دیکھ لیا“ - یعنی مختار کی مراد لیتے ہوئے - ”اور جہاں تک تباہ کن کا تعلق ہے تو وہ تم ہو۔“ ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ حجاج نے اپنی حدیث میں کہا: منافقوں کا تباہ کن۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّهْ، إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْصَانِي بِكِ، فَهَلْ لَكِ مِنْ حَاجَةٍ؟ قَالَتْ: مَا لِي إِلَيْكَ مِنْ حَاجَةٍ، وَلَسْتُ لَكَ بِأُمٍّ، وَلَكِنْ أُمُّ الْمَصْلُوبِ، انْظُرْ حَتَّى أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ - تَعْنِي الْمُخْتَارَ - وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ "، قَالَ الْحَجَّاجُ: مُبِيرٌ لِلْمُنَافِقِينَ
ترجمہ
”… اور میں تمہاری ماں نہیں بلکہ مصلوب (سولی چڑھائے گئے) کی ماں ہوں، سنو، میں تمہیں وہ حدیث سناتی ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہ کن نکلے گا۔ جہاں تک جھوٹے کا تعلق ہے تو ہم نے اسے دیکھ لیا“ - یعنی مختار کی مراد لیتے ہوئے - ”اور جہاں تک تباہ کن کا تعلق ہے تو وہ تم ہو۔“ حجاج نے کہا: منافقوں کا تباہ کن۔