❮
❯
حدیث نمبر: 20643
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ أَبِيهِ يَعْلَى بْنِ حَرْمَلَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ بَعْدَمَا صُلِبَ أَوْ قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكَلَّمَتُ أُمُّهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الْحَجَّاجَ، فَقَالَتْ: أَمَا آنْ لِهَذَا الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ؟ قَالَ: الْمُنَافِقُ، قَالَتْ: لَا وَاللهِ مَا كَانَ مُنَافِقًا، وَلَقَدْ كَانَ صَوَّامًا قِوَامًا، قَالَ: اسْكُتِي فَإِنَّكِ عَجُوزٌ قَدْ خَرِفْتِ، قَالَتْ: مَا خَرِفْتُ، مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ تَعْنِي الْمُخْتَارَ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ " زَادَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: فَقَالَ الْحَجَّاجُ فِي حَدِيثِهِ مُبِيرُ الْمُنَافِقِينَ
ترجمہ

یعلیٰ بن حرملہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے سولی دیے جانے یا قتل کیے جانے کے تین دن بعد مکہ آیا، تو ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے حجاج سے بات کی اور فرمایا: کیا ابھی اس سوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا؟ اس نے کہا: (وہ) منافق؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نہیں، اللہ کی قسم! وہ منافق نہیں تھا، بلکہ وہ بہت روزہ رکھنے والا اور بہت عبادت گزار تھا۔“ اس نے کہا: خاموش ہو جاؤ، تم بڑھیا ہو، تمہاری عقل ماؤف ہو چکی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”میری عقل ماؤف نہیں ہوئی، جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہ کن نکلے گا۔ جہاں تک جھوٹے کا تعلق ہے تو ہم نے اسے دیکھ لیا“ - یعنی مختار کی مراد لیتے ہوئے - ”اور جہاں تک تباہ کن کا تعلق ہے تو وہ تم ہو۔“ ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ حجاج نے اپنی حدیث میں کہا: منافقوں کا تباہ کن۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20643
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 101، حدیث 272