❮
❯
حدیث نمبر: 20644
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّهْ، إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْصَانِي بِكِ، فَهَلْ لَكِ مِنْ حَاجَةٍ؟ قَالَتْ: مَا لِي إِلَيْكَ مِنْ حَاجَةٍ، وَلَسْتُ لَكَ بِأُمٍّ، وَلَكِنْ أُمُّ الْمَصْلُوبِ، انْظُرْ حَتَّى أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ - تَعْنِي الْمُخْتَارَ - وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ "، قَالَ الْحَجَّاجُ: مُبِيرٌ لِلْمُنَافِقِينَ
ترجمہ

ابو المحیاۃ رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب حجاج نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تو حجاج، سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے کہا: اے ماں! امیر المومنین نے مجھے آپ کے بارے میں وصیت کی ہے، تو کیا آپ کو کوئی ضرورت ہے؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے تم سے کوئی ضرورت نہیں، اور میں تمہاری ماں نہیں، بلکہ مصلوب (سولی چڑھائے گئے) کی ماں ہوں، سنو، میں تمہیں وہ حدیث سناتی ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہ کن نکلے گا۔“ جہاں تک جھوٹے کا تعلق ہے تو ہم نے اسے دیکھ لیا - یعنی مختار کی مراد لیتے ہوئے - اور جہاں تک تباہ کن کا تعلق ہے تو وہ تم ہو۔ حجاج نے کہا: منافقوں کا تباہ کن (ہوں)۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20644
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 101، حدیث 273