کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبداللہ بن صفوان بن امیہ کی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كِنَانَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: «أَعْتَقَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَ عِتْقِي صَدَاقِي»
ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے آزاد کیا اور میری آزادی کو ہی میرا مہر بنا دیا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كِنَانَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ يَدَيَّ أَرْبَعَةُ آلَافِ نَوَاةٍ أُسَبِّحُ بِهِنَّ، فَقَالَ: «يَا ابْنَةَ حُيَيٍّ مَا هَذَا؟» فَقُلْتُ: أُسَبِّحُ بِهِنَّ، فَقَالَ: «قَدْ سَبَّحْتُ مُنْذُ قُمْتُ عَلَى رَأْسِكَ بِأَكْثَرِ مِنْ هَذَا» ، قُلْتُ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «قُولِي سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ مِنْ شَيْءٍ»
ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میرے سامنے چار ہزار گٹھلیاں تھیں جن سے میں تسبیح کر رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حیی کی بیٹی! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں ان سے تسبیح کر رہی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے پاس آنے سے اب تک اس سے زیادہ تسبیح کر چکا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: تو مجھے سکھا دیجیے، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: سبحان اللہ عدد ما خلق من شیء، یعنی اللہ پاک ہے، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كِنَانَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ يَا ابْنَةَ حُيَيٍّ؟» قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ تَنَالَانِ مِنِّي، وَتَقُولَانِ: نَحْنُ خَيْرٌ مِنْهَا، نَحْنُ بَنَاتُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجُهُ، قَالَ: " أَفَلَا قُلْتِ: كَيْفَ تَكُونَانِ خَيْرًا مِنِّي، وَأَبِي هَارُونُ، وَعَمِّي مُوسَى، وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ " صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں رو رہی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”حیی کی بیٹی! تمہیں کیا رلا رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ عائشہ اور حفصہ مجھے طعنہ دیتی ہیں اور کہتی ہیں: ہم اس سے بہتر ہیں، ہم رسول اللہ ﷺ کی چچازاد بہنیں اور ازواج ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے یہ کیوں نہ کہا: وہ کیسے مجھ سے بہتر ہو سکتی ہیں جبکہ میرے والد ہارون علیہ السلام ہیں، میرے چچا موسیٰ علیہ السلام ہیں، اور میرے شوہر محمد ﷺ ہیں۔“