کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبداللہ بن صفوان بن امیہ کی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كِنَانَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: «أَعْتَقَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَ عِتْقِي صَدَاقِي»
ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے آزاد کیا اور میری آزادی کو ہی میرا مہر بنا دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20565
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 73، حدیث 194
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كِنَانَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ يَدَيَّ أَرْبَعَةُ آلَافِ نَوَاةٍ أُسَبِّحُ بِهِنَّ، فَقَالَ: «يَا ابْنَةَ حُيَيٍّ مَا هَذَا؟» فَقُلْتُ: أُسَبِّحُ بِهِنَّ، فَقَالَ: «قَدْ سَبَّحْتُ مُنْذُ قُمْتُ عَلَى رَأْسِكَ بِأَكْثَرِ مِنْ هَذَا» ، قُلْتُ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «قُولِي سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ مِنْ شَيْءٍ»
ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میرے سامنے چار ہزار گٹھلیاں تھیں جن سے میں تسبیح کر رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حیی کی بیٹی! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں ان سے تسبیح کر رہی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے پاس آنے سے اب تک اس سے زیادہ تسبیح کر چکا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: تو مجھے سکھا دیجیے، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: سبحان اللہ عدد ما خلق من شیء، یعنی اللہ پاک ہے، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20566
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 74، حدیث 195
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كِنَانَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ يَا ابْنَةَ حُيَيٍّ؟» قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ تَنَالَانِ مِنِّي، وَتَقُولَانِ: نَحْنُ خَيْرٌ مِنْهَا، نَحْنُ بَنَاتُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجُهُ، قَالَ: " أَفَلَا قُلْتِ: كَيْفَ تَكُونَانِ خَيْرًا مِنِّي، وَأَبِي هَارُونُ، وَعَمِّي مُوسَى، وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ " صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں رو رہی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”حیی کی بیٹی! تمہیں کیا رلا رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ عائشہ اور حفصہ مجھے طعنہ دیتی ہیں اور کہتی ہیں: ہم اس سے بہتر ہیں، ہم رسول اللہ ﷺ کی چچازاد بہنیں اور ازواج ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے یہ کیوں نہ کہا: وہ کیسے مجھ سے بہتر ہو سکتی ہیں جبکہ میرے والد ہارون علیہ السلام ہیں، میرے چچا موسیٰ علیہ السلام ہیں، اور میرے شوہر محمد ﷺ ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20567
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 75، حدیث 196