المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله بن صفوان بن أمية، عن صفية باب: عبداللہ بن صفوان بن امیہ کی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20566
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كِنَانَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ يَدَيَّ أَرْبَعَةُ آلَافِ نَوَاةٍ أُسَبِّحُ بِهِنَّ، فَقَالَ: «يَا ابْنَةَ حُيَيٍّ مَا هَذَا؟» فَقُلْتُ: أُسَبِّحُ بِهِنَّ، فَقَالَ: «قَدْ سَبَّحْتُ مُنْذُ قُمْتُ عَلَى رَأْسِكَ بِأَكْثَرِ مِنْ هَذَا» ، قُلْتُ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «قُولِي سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ مِنْ شَيْءٍ»ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میرے سامنے چار ہزار گٹھلیاں تھیں جن سے میں تسبیح کر رہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”حیی کی بیٹی! یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں ان سے تسبیح کر رہی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے پاس آنے سے اب تک اس سے زیادہ تسبیح کر چکا ہوں۔“ میں نے عرض کیا: تو مجھے سکھا دیجیے، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: سبحان اللہ عدد ما خلق من شیء، یعنی اللہ پاک ہے، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر۔“