المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله بن صفوان بن أمية، عن صفية باب: عبداللہ بن صفوان بن امیہ کی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20567
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا شَاذُّ بْنُ الْفَيَّاضِ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ كِنَانَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ يَا ابْنَةَ حُيَيٍّ؟» قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ تَنَالَانِ مِنِّي، وَتَقُولَانِ: نَحْنُ خَيْرٌ مِنْهَا، نَحْنُ بَنَاتُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجُهُ، قَالَ: " أَفَلَا قُلْتِ: كَيْفَ تَكُونَانِ خَيْرًا مِنِّي، وَأَبِي هَارُونُ، وَعَمِّي مُوسَى، وَزَوْجِي مُحَمَّدٌ " صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں رو رہی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”حیی کی بیٹی! تمہیں کیا رلا رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ عائشہ اور حفصہ مجھے طعنہ دیتی ہیں اور کہتی ہیں: ہم اس سے بہتر ہیں، ہم رسول اللہ ﷺ کی چچازاد بہنیں اور ازواج ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے یہ کیوں نہ کہا: وہ کیسے مجھ سے بہتر ہو سکتی ہیں جبکہ میرے والد ہارون علیہ السلام ہیں، میرے چچا موسیٰ علیہ السلام ہیں، اور میرے شوہر محمد ﷺ ہیں۔“