کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: مہاجر بن قبطیہ کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمَا فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ، فَيَبْعَثُ اللهُ بَعْثًا فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ» ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ يُخْسَفُ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا، قَالَ: «يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ»
ترجمہ
ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، تو ان دونوں نے ان سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اور یہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے کی بات تھی۔ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا، تو اللہ ایک لشکر بھیجے گا، جب وہ بیداء پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو ان میں سے ناپسند کرتا ہو، کیا اسے بھی دھنسایا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَغْزُو جَيْشٌ هَذَا الْبَيْتَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ الْمُكْرَهُ، فقَالَ: «يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک لشکر اس گھر پر چڑھائی کرے گا، یہاں تک کہ جب وہ بیداء پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو مجبور ہو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“