حدیث نمبر: 20286
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمَا فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ، فَيَبْعَثُ اللهُ بَعْثًا فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ» ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ يُخْسَفُ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا، قَالَ: «يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ»
ترجمہ

ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، تو ان دونوں نے ان سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اور یہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے کی بات تھی۔ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا، تو اللہ ایک لشکر بھیجے گا، جب وہ بیداء پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو ان میں سے ناپسند کرتا ہو، کیا اسے بھی دھنسایا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20286
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 409، حدیث 984