حدیث نمبر: 20231
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَانْطَلَقَتْ مَعَ الرَّسُولِ، فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهَا، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ فِي بَيْتِي يَتَوَضَّأُ لِلظُّهْرِ، وَكَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِيًا وَعِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَقَدْ كَانَ يُهِمُّهُ شَأْنُهُمْ إِذْ ضَرَبَ الْبَابُ فَخَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَسَمَ مَا جَاءَ بِهِ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «شَغَلَنِي أَمْرُ السَّاعِي، أَنْ أُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ»
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ … مہاجرین کا معاملہ تھا اور آپ ﷺ کو ان کا معاملہ فکرمند کیے ہوئے تھا کہ اتنے میں دروازہ کھٹکھٹایا گیا، تو آپ ﷺ باہر نکلے اور ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آئے اور جو کچھ مال آیا تھا اسے تقسیم کیا، اور اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ عصر کی نماز پڑھی، پھر اپنے گھر میں داخل ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”ساعی (زکوٰۃ وصول کرنے والے) کے معاملے نے مجھے مشغول کر دیا کہ میں یہ دو رکعتیں ظہر کے بعد پڑھتا، تو میں نے یہ عصر کے بعد پڑھ لیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20231
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 389، حدیث 929