کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ہشام بن عروہ کی اپنے والد کے واسطے سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ؟، قَالَ: «نَعَمْ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ» .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورت کو احتلام ہونے پر غسل کرنا ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ پانی کا اثر دیکھے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ، فَإِنِّي أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ شَارَكْتُهُمْ؟، قَالَ: «نَعَمْ لَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: کیا مجھے ابوسلمہ کے بچوں پر خرچ کرنے کا اجر ملے گا، حالانکہ میں ان پر خرچ کرتی ہوں اور وہ میری اولاد میں شریک نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تمہیں اتنا اجر ملے گا جتنا تم نے ان پر خرچ کیا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا عَبْدَ اللهِ إِنْ فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ»
ترجمہ
… کسی نے عبداللہ بن ابی امیہ سے کہا: اے عبداللہ! اگر اللہ تعالیٰ کل تمہارے لیے طائف فتح کر دے تو غیلان کی بیٹی سے نکاح کرنا، وہ سامنے سے چار سلوٹوں کے ساتھ آتی ہے اور پیٹھ سے آٹھ کے ساتھ جاتی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: ”یہ عورتیں تمہارے پاس نہ آئیں۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِي لَهُ عَلَى مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِشَيْءٍ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں اور تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ فصیح ہو، تو میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو سنتا ہوں، پس اگر میں نے کسی کے حق میں اس کے بھائی کا کوئی حق دلوا دیا تو وہ اس میں سے کچھ نہ لے، کیونکہ میں نے دراصل اسے آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُوَافِيَ مَعَهُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمَكَّةَ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ قربانی کے دن مکہ میں آپ ﷺ کے ساتھ حاضر ہوں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَيُجْزِئُنِي مِنَ الصَّدَقَةِ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى زَوْجِي وَهُوَ فَقِيرٌ، وَعَلَى بَنِي أَخٍ لِي أَيْتَامٍ وَأَنَا مُنْفِقَةٌ عَلَيْهِمْ عَلَى كُلِّ حَالٍ؟، فَقَالَ: «نَعَمْ» وَكَانَتْ صَنَاعَ الْيَدَيْنِ
ترجمہ
… سیدہ زینب، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی زوجہ، نے عرض کیا: کیا مجھے صدقے کا ثواب مل جائے گا اگر میں اپنے شوہر پر صدقہ کروں جو کہ فقیر ہیں، اور اپنے یتیم بھتیجوں پر جن پر میں ہر حال میں خرچ کرتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور وہ دستکاری میں ماہر تھیں۔