المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هشام بن عروة عن أبيه عن زينب باب: ہشام بن عروہ کی اپنے والد کے واسطے سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20100
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا عَبْدَ اللهِ إِنْ فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلْ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُمْ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک مخنث (زنانہ صفت شخص) موجود تھا، تو آپ ﷺ نے اسے عبداللہ بن ابی امیہ سے یہ کہتے سنا: اے عبداللہ! اگر اللہ تعالیٰ کل تمہارے لیے طائف فتح کر دے تو غیلان کی بیٹی کو ضرور حاصل کرنا، کیونکہ وہ سامنے سے آتی ہے تو چار (سلوٹوں) کے ساتھ اور پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ (سلوٹوں) کے ساتھ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: “یہ (ایسے لوگ) تمہارے پاس نہ آئیں۔”