کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ضبہ بن محصن عنزی کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا زُنَيْجُ أَبُو غَسَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الرَّازِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20064
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 330، حدیث 761
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذٌ، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، وَهِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20065
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 330، حدیث 762
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُهَّانَ، قَالَا: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا حِبَّانُ بْنُ أَغْلَبَ بْنِ تَمِيمٍ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّحْرَاءِ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِيهِ يَا رَسُولَ اللهِ فَالْتَفَتَ، فَلَمْ يَرَ أَحَدًا، ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا ظَبْيَةٌ مُوَثَّقَةٌ، فَقَالَتْ: ادْنُ مِنِّي يَا رَسُولَ اللهِ فَدَنَا مِنْهَا، فَقَالَ: «حَاجَتَكِ؟» قَالَتْ: إِنَّ لِي خَشَفَيْنِ فِي ذَلِكَ الْجَبَلِ فَحُلَّنِي حَتَّى أَذْهَبَ، فَأُرْضِعَهُمَا، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَيْكَ، قَالَ: «وَتَفْعَلِينَ؟» ، قَالَتْ: عَذَّبَنِي اللهُ بِعَذَابِ الْعِشَارِ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ، فَأَطْلَقَهَا فَذَهَبَتْ، فَأَرْضَعَتْ خَشَفَيْهَا، ثُمَّ رَجَعَتْ، فَأَوْثَقَهَا وَانْتَبَهَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ: لَكَ حَاجَةٌ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «نَعَمْ تُطْلِقُ هَذِهِ» ، فَأَطْلَقَهَا فَخَرَجَتْ تَعْدُو، وَهِيَ تَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ "
ترجمہ
… نبی کریم ﷺ صحرا میں تھے کہ اچانک ایک پکارنے والی آواز آئی: یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے مڑ کر دیکھا، مگر کسی کو نہ پایا، پھر دوبارہ دیکھا تو ایک بندھی ہوئی ہرنی نظر آئی، اس نے کہا: میرے قریب آئیے، یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ اس کے قریب گئے اور فرمایا: ”تمہیں کیا ضرورت ہے؟“ اس نے کہا: میرے اس پہاڑ میں دو بچے ہیں، مجھے کھول دیجیے تاکہ میں جا کر انہیں دودھ پلا آؤں، پھر آپ کے پاس واپس آ جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ایسا کرو گی؟“ اس نے کہا: اگر میں نے ایسا نہ کیا تو اللہ مجھے حاملہ اونٹنیوں کے عذاب جیسا عذاب دے۔ تو آپ ﷺ نے اسے کھول دیا، وہ چلی گئی، اپنے بچوں کو دودھ پلایا، پھر واپس آ گئی، تو آپ ﷺ نے دوبارہ اسے باندھ دیا۔ اتنے میں دیہاتی مالک بیدار ہوا تو اس نے پوچھا: کیا آپ کو کوئی ضرورت ہے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس ہرنی کو چھوڑ دو۔“ تو اس نے اسے چھوڑ دیا، وہ دوڑتی ہوئی نکل گئی جبکہ وہ کہہ رہی تھی: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20066
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 331، حدیث 763