المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عطية أبو المعدل، عن أبيه، عن أم سلمة باب: عطیہ، ابوالمعدل، کی اپنے والد کے واسطے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا هَوْذَةُ، قَالَا: ثنا عَوْفٌ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو ظَفَرَ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ أَبِي الْمُعَذِّلِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: اعْتَنَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا بِيَدٍ وَفَاطِمَةَ بِيَدٍ، وَعَطَفَ عَلَيْهِمَا خَمِيصَةً كَانَتْ عَلَيْهِ سَوْدَاءَ، وَقَبَّلَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ، وَقَالَ: «اللهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي» ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، قُلْتُ: أَيْ رَسُولُ اللهِ وَأَنَا؟ قَالَ: «وَأَنْتِ»
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالَا: ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ، فَيُعْرَفُونَ وَيُنْكَرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» ، قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا مَا صَلَّوْا» .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک ہاتھ سے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دوسرے ہاتھ سے گلے لگایا، اور اپنی کالی چادر ان دونوں پر ڈال دی، پھر سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”اے اللہ! میں اور میرے اہلِ بیت تیری طرف ہیں، آگ کی طرف نہیں۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور میں بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تم بھی۔“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب کچھ حکمران آئیں گے، تو ان کے کام پہچانے اور ناپسند کیے جائیں گے، پس جس نے برائی کو پہچان لیا وہ بری الذمہ ہو گیا، اور جس نے اسے ناپسند کیا وہ محفوظ رہا، لیکن جس نے راضی ہو کر پیروی کی۔“ صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔“