کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ غُلَامًا لَهَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ حُرَّةً بِتَطْلِيقَتَيْنِ، فَاسْتَفْتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُرِّمَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے ایک غلام نے اپنی آزاد بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اس پر حرام ہو گئی ہے، یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کر لے۔“
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَسَمِعْتُ أَنَا عَبْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ، ثنا عَبْدَةُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُصْبِحُ جُنُبًا مِنَ الْوِقَاعِ لَا مِنَ الاحْتِلَامِ، ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جماع کی وجہ سے، نہ کہ احتلام کی وجہ سے، جنبی حالت میں صبح کرتے، پھر اپنا روزہ پورا کرتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ فَانْسَلَلْتُ مِنْ لِحَافِهِ، فَقَالَ: «مَا لَكِ؟ أَنُفِسْتِ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «شُدِّي عَلَيْكِ مِئْزَرَكِ وَعُودِي حَيْثُ كُنْتِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ میں چپکے سے آپ ﷺ کے لحاف سے نکل گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟ کیا تمہیں حیض آ گیا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا تہبند مضبوطی سے باندھ لو اور جہاں تھیں وہیں واپس آ جاؤ۔“