حدیث نمبر: 19910
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَمِّي هِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ يُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فَلَوْ أَدْرَكَكَ لَأَسْلَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَحْدَهَا وَذِكْرِهَا، وَمَا قَالَ يَوْمًا قَطُّ اغْفِرْ لِي يَوْمَ الدِّينِ» .
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے چچا ہشام بن مغیرہ کھانا کھلاتے تھے، صلہ رحمی کرتے تھے اور بہت سے (نیک) کام کرتے تھے، اگر وہ آپ کا زمانہ پاتے تو ضرور اسلام لے آتے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ صرف دنیا اور اس کی شہرت کے لیے (یہ سب) دیتا تھا، اور اس نے کبھی ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے اللہ! مجھے قیامت کے دن بخش دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19910
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 279، حدیث 606