حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْكَلْبِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَدَهُمْ ثَمَانِينَ ثَمَانِينَ»
ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسی، اسی کوڑے لگائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ وَتَلَا الْقُرْآنَ، فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: جب میرا عذر نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے، اس کا ذکر کیا اور قرآن تلاوت کیا۔ جب آپ ﷺ منبر سے اترے تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا، تو انہیں حد لگائی گئی۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَارُونَ أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، ثنا قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَشْجَعِيُّ، ثنا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ حَدَّ اللهُ الَّذِينَ شَتَمُوا عَائِشَةَ ثَمَانِينَ ثَمَانِينَ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ، فَيَسْتَوْهِبُ رَبِّي الْمُهَاجِرِينَ مِنْهُمْ، فَأَسْتَأْمِرُكِ يَا عَائِشَةُ» ، فَسَمِعَتْ عَائِشَةُ الْكَلَامَ، فَبَكَتْ وَهِيَ فِي الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَسُرُورُكَ أَطْيَبُ إِلَيَّ مِنْ سُرُورِي، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا، وَقَالَ: «ابْنَةُ أَبِيهَا»
ترجمہ
…ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ ان لوگوں کو، جنہوں نے سیدہ عائشہ کو گالی دی، تمام مخلوق کے سامنے اسی اسی کوڑے کی حد لگوائے گا، پھر میرا رب مجھ سے مہاجرین کو بخشوائے گا، تو اے عائشہ! میں تم سے اس بارے میں مشورہ کروں گا۔“ سیدہ عائشہ نے یہ بات سنی تو گھر میں بیٹھی رو پڑیں، پھر فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا، آپ کی خوشی مجھے میری اپنی خوشی سے زیادہ پیاری ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہنستے ہوئے مسکرا دیے اور فرمایا: ”یہ اپنے باپ کی بیٹی ہے۔“