حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: كُنْتُ بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ فَقَالَ الْآذِنُ: هَذَا أَبُو غَادِيَةَ الْجُهَنِيُّ فَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: أَدْخِلُوهُ، فَدَخَلَ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ لَهُ رَجُلٌ طُوَالٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ، فَلَمَّا أَنْ قَعَدَ قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: بِيَمِينِكَ، قَالَ: نَعَمْ، خَطَبَنَا يَوْمَ الْعَقَبَةِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «اللهُمَّ اشْهَدْ» قَالَ: «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» قَالَ: وَكُنَّا نَعُدُّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ مِنْ خِيَارِنَا قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ أَقْبَلَ يَمْشِي أَوَّلَ الْكَتِيبَةِ رَاجِلًا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الصَّفَّيْنِ طَعَنَ رَجُلًا فِي رُكْبَتِهِ بِالرُّمْحِ، فَعَثَرَ فَانْكَفَأَ الْمِغْفَرُ عَنْهُ فَضَرَبْتُهُ، فَإِذَا هُوَ رَأْسُ عَمَّارٍ قَالَ: يَقُولُ مَوْلَى لَنَا: «أَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ؟» قَالَ: " فَلَمْ أَرَ رَجُلًا أَبْيَنَ ضَلَالَةً عِنْدِي مِنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعَ، ثُمَّ قَتَلَ عَمَّارًا
ترجمہ
…جب وہ (شخص) بیٹھ گیا تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی۔ میں نے پوچھا: اپنے دائیں ہاتھ سے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے ہمیں عقبہ کے دن خطاب کیا اور فرمایا: ”اے لوگو! سن لو، تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہے جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں حرام ہے، سن لو، کیا میں نے پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“ پھر فرمایا: ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ وہ کہتے ہیں: ہم عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اپنے بہترین لوگوں میں شمار کرتے تھے۔ کہتے ہیں: جب صفین کا دن ہوا تو وہ لشکر کے آگے آگے پیدل چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ جب دونوں صفوں کے درمیان پہنچے تو انہوں نے ایک آدمی کے گھٹنے میں نیزہ مارا، وہ گر پڑا اور اس کا خود اتر گیا، تو میں نے اسے مارا، تو دیکھا وہ عمار (رضی اللہ عنہ) کا سر تھا۔ (راوی) کہتے ہیں: ہمارا ایک آزاد کردہ غلام کہنے لگا: ”کس ہاتھ نے اس کے لیے کافی سمجھا؟“ کہتے ہیں: میں نے اس سے زیادہ کھلی گمراہی میں کوئی آدمی نہیں دیکھا کہ اس نے نبی کریم ﷺ سے وہ سنا جو سنا، پھر عمار (رضی اللہ عنہ) کو قتل کر دیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَرَ اللَّيْثِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ فَرَكِبْتُ يَوْمًا إِلَى الْحَجَّاجِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو غَادِيَةَ الْجُهَنِيُّ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ اللهِ: قُومُوا إِلَيْهِ فَأَنْزَلُوهُ فَقُولُوا: الْآنَ تَرْجِعُ فَخَرَجْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ: الْآنَ تَرْجِعُ فَنَزَلَ فَدَخَلَ عَبْدُ الْأَعْلَى فَاسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِمَاءٍ فِي قَدَحِ زُجَاجٍ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ فِي الزُّجَاجِ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فِي قَدَحِ نُضَارٍ فَشَرِبَ، فَقَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَرُدُّ عَلَى أَهْلِي الْمَالَ، فَقَالَ رَاشِدُ بْنُ أَبْيَضَ وَكَانَ مَعِي عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى: أَبِيَمِينِكَ هَذِهِ؟ فَانْتَهَرَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى، وَقَالَ: اقْتَسَمَا لَهُ قَالَ: وَشَهِدْتُ خُطْبَتَهُ يَوْمَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ يَقُولُ: «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ أُحِيطَ بِعُثْمَانَ سَمِعْتُ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: «أَلَا لَا تَقْتُلْ هَذَا؟» فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ عَمَّارٌ فَلَوْلَا مَنْ كَانَ خَلْفَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَوَطَّنْتُ بَطْنَهُ فَقُلْتُ: " اللهُمَّ إِنْ تَشَأْ أَنْ يُلْقِينِيهِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بِرَجُلِ شَرٍّ يَقُودُ كَتِيبَةً رَاجِلًا فَنَظَرْتُ إِلَى الدِّرْعِ فَانْكَسَفَ عَنْ رُكْبَتِهِ فَأَطْعُنُهُ فَإِذَا هُوَ عَمَّارٌ
ترجمہ
…راشد بن ابیض نے کہا، جو عبدالاعلیٰ کے پاس میرے ساتھ موجود تھے: کیا اسی دائیں ہاتھ سے؟ تو عبدالاعلیٰ نے انہیں ڈانٹا اور کہا: انہیں اس کی بابت آپس میں تقسیم کرنے دو۔ وہ کہتے ہیں: اور میں نے عقبہ کے دن ان کا خطبہ سنا، وہ فرما رہے تھے: ”تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہے جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں حرام ہے، سن لو، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ یہاں تک کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا، میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے سنا: ”سن لو، اسے قتل نہ کرنا۔“ میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ عمار (رضی اللہ عنہ) تھے۔ اگر ان کے پیچھے ان کے ساتھی نہ ہوتے تو میں اس کا پیٹ چیر ڈالتا۔ (راوی نے) کہا: اے اللہ! اگر تو چاہے تو اسے مجھ سے ملا دے۔ پھر جب صفین کا دن آیا تو اچانک میں نے ایک برے آدمی کو دیکھا جو پیدل ایک لشکر کی قیادت کر رہا تھا، میں نے زرہ کی طرف دیکھا تو وہ اس کے گھٹنے سے ہٹی ہوئی تھی، تو میں نے اسے نیزہ مارا، تو دیکھا وہ عمار (رضی اللہ عنہ) تھے۔