المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
أبو غادية الجهني باب: سیدنا ابوغادیہ جہنی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: كُنْتُ بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ فَقَالَ الْآذِنُ: هَذَا أَبُو غَادِيَةَ الْجُهَنِيُّ فَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: أَدْخِلُوهُ، فَدَخَلَ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ لَهُ رَجُلٌ طُوَالٌ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ، فَلَمَّا أَنْ قَعَدَ قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: بِيَمِينِكَ، قَالَ: نَعَمْ، خَطَبَنَا يَوْمَ الْعَقَبَةِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «اللهُمَّ اشْهَدْ» قَالَ: «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» قَالَ: وَكُنَّا نَعُدُّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ مِنْ خِيَارِنَا قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ أَقْبَلَ يَمْشِي أَوَّلَ الْكَتِيبَةِ رَاجِلًا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الصَّفَّيْنِ طَعَنَ رَجُلًا فِي رُكْبَتِهِ بِالرُّمْحِ، فَعَثَرَ فَانْكَفَأَ الْمِغْفَرُ عَنْهُ فَضَرَبْتُهُ، فَإِذَا هُوَ رَأْسُ عَمَّارٍ قَالَ: يَقُولُ مَوْلَى لَنَا: «أَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ؟» قَالَ: " فَلَمْ أَرَ رَجُلًا أَبْيَنَ ضَلَالَةً عِنْدِي مِنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَمِعَ، ثُمَّ قَتَلَ عَمَّارًاکلثوم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں واسط القصب میں عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر کے پاس تھا کہ دربان نے کہا: یہ ابو غادیہ جہنی ہیں۔ عبدالاعلیٰ نے کہا: انہیں اندر لاؤ۔ چنانچہ وہ داخل ہوئے، ان پر چھوٹے (کٹے ہوئے) کپڑے تھے، وہ ایک لمبے قد کے، چھریرے بدن کے آدمی تھے، گویا وہ اس امت میں سے نہیں تھے۔ جب وہ بیٹھ گئے تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی۔ میں نے پوچھا: اپنے دائیں ہاتھ سے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے ہمیں عقبہ کے دن خطاب کیا اور فرمایا: ”اے لوگو! سن لو، تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہے جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں حرام ہے، سن لو، کیا میں نے پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“ پھر فرمایا: ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ وہ کہتے ہیں: ہم عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو اپنے بہترین لوگوں میں شمار کرتے تھے۔ کہتے ہیں: جب صفین کا دن ہوا تو وہ لشکر کے آگے آگے پیدل چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ جب دونوں صفوں کے درمیان پہنچے تو انہوں نے ایک آدمی کے گھٹنے میں نیزہ مارا، وہ گر پڑا اور اس کا خود اتر گیا، تو میں نے اسے مارا، تو دیکھا وہ عمار (رضی اللہ عنہ) کا سر تھا۔ (راوی) کہتے ہیں: ہمارا ایک آزاد کردہ غلام کہنے لگا: ”کس ہاتھ نے اس کے لیے کافی سمجھا؟“ کہتے ہیں: میں نے اس سے زیادہ کھلی گمراہی میں کوئی آدمی نہیں دیکھا کہ اس نے نبی کریم ﷺ سے وہ سنا جو سنا، پھر عمار (رضی اللہ عنہ) کو قتل کر دیا۔