المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
أبو غادية الجهني باب: سیدنا ابوغادیہ جہنی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَرَ اللَّيْثِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ فَرَكِبْتُ يَوْمًا إِلَى الْحَجَّاجِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو غَادِيَةَ الْجُهَنِيُّ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ اللهِ: قُومُوا إِلَيْهِ فَأَنْزَلُوهُ فَقُولُوا: الْآنَ تَرْجِعُ فَخَرَجْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ: الْآنَ تَرْجِعُ فَنَزَلَ فَدَخَلَ عَبْدُ الْأَعْلَى فَاسْتَسْقَى فَأُتِيَ بِمَاءٍ فِي قَدَحِ زُجَاجٍ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ فِي الزُّجَاجِ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ فِي قَدَحِ نُضَارٍ فَشَرِبَ، فَقَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَرُدُّ عَلَى أَهْلِي الْمَالَ، فَقَالَ رَاشِدُ بْنُ أَبْيَضَ وَكَانَ مَعِي عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى: أَبِيَمِينِكَ هَذِهِ؟ فَانْتَهَرَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى، وَقَالَ: اقْتَسَمَا لَهُ قَالَ: وَشَهِدْتُ خُطْبَتَهُ يَوْمَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ يَقُولُ: «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ» حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ أُحِيطَ بِعُثْمَانَ سَمِعْتُ رَجُلًا وَهُوَ يَقُولُ: «أَلَا لَا تَقْتُلْ هَذَا؟» فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ عَمَّارٌ فَلَوْلَا مَنْ كَانَ خَلْفَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَوَطَّنْتُ بَطْنَهُ فَقُلْتُ: " اللهُمَّ إِنْ تَشَأْ أَنْ يُلْقِينِيهِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بِرَجُلِ شَرٍّ يَقُودُ كَتِيبَةً رَاجِلًا فَنَظَرْتُ إِلَى الدِّرْعِ فَانْكَسَفَ عَنْ رُكْبَتِهِ فَأَطْعُنُهُ فَإِذَا هُوَ عَمَّارٌ…راشد بن ابیض نے کہا، جو عبدالاعلیٰ کے پاس میرے ساتھ موجود تھے: کیا اسی دائیں ہاتھ سے؟ تو عبدالاعلیٰ نے انہیں ڈانٹا اور کہا: انہیں اس کی بابت آپس میں تقسیم کرنے دو۔ وہ کہتے ہیں: اور میں نے عقبہ کے دن ان کا خطبہ سنا، وہ فرما رہے تھے: ”تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہے جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں حرام ہے، سن لو، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔“ یہاں تک کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا، میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے سنا: ”سن لو، اسے قتل نہ کرنا۔“ میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ عمار (رضی اللہ عنہ) تھے۔ اگر ان کے پیچھے ان کے ساتھی نہ ہوتے تو میں اس کا پیٹ چیر ڈالتا۔ (راوی نے) کہا: اے اللہ! اگر تو چاہے تو اسے مجھ سے ملا دے۔ پھر جب صفین کا دن آیا تو اچانک میں نے ایک برے آدمی کو دیکھا جو پیدل ایک لشکر کی قیادت کر رہا تھا، میں نے زرہ کی طرف دیکھا تو وہ اس کے گھٹنے سے ہٹی ہوئی تھی، تو میں نے اسے نیزہ مارا، تو دیکھا وہ عمار (رضی اللہ عنہ) تھے۔