کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جن کی کنیت ابوسیارہ ہے — سیدنا ابوسیارہ متعی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتُعِيِّ، وَكَانَ مَوْلًى لِبَنِي بَجَالَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي نَحْلًا قَالَ: «أَدِّ الْعُشْرَ» قُلْتُ: «وَاحْمِ لِي جَبَلَهَا فَحَمَى لِي جَبَلَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابوسیارہ متعی رضی اللہ عنہ، جو بنی بجالہ کے آزاد کردہ غلام تھے، کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عشر ادا کرو۔“ میں نے عرض کیا: اور میرے لیے اس (شہد کی مکھیوں) کا پہاڑ محفوظ کر دیجیے، تو آپ ﷺ نے میرے لیے وہ پہاڑ محفوظ (چراگاہ کے طور پر مخصوص) کر دیا۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتْعِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي نَحْلًا، قَالَ: «أَدِّ الْعُشْرَ» قُلْتُ: «فَاحْمِ لِي جَبَلَهَا فَحَمَى لِي جَبَلَهَا»
ترجمہ
سیدنا ابوسیارہ متعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عشر ادا کرو۔“ میں نے عرض کیا: تو میرے لیے اس کا پہاڑ محفوظ کر دیجیے، تو آپ ﷺ نے میرے لیے وہ پہاڑ محفوظ کر دیا۔