کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جن کی کنیت ابوسعد ہے — سیدنا ابوسعد خیر انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدِ الْحَلَبِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيَّ، حَدَّثَ الْوَلِيدَ، أَنَّ أَبَا سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَيُشَفِّعَ كُلَّ أَلْفٍ لِسَبْعِينَ أَلْفًا، ثُمَّ يَحْثِي رَبِّي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ بِكَفَّيْهِ» ، قَالَ قَيْسٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي سَعْدٍ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، بِأُذُنِي وَوَعَاهُ قَلْبِي، قَالَ أَبُو سَعْدٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ إِنْ شَاءَ اللهُ مُسْتَوْعِبٌ مُهَاجِرِي أُمَّتِي وَيُوَفِّي اللهُ مِنْ أَعْرَابِنَا»
ترجمہ
سیدنا ابوسعد خیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کرے گا، اور ہر ہزار کی شفاعت ستر ہزار کے لیے قبول کرے گا، پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں مزید عطا فرمائے گا۔“ قیس کہتے ہیں: میں نے ابوسعد سے پوچھا: کیا آپ نے یہ رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اپنے کانوں سے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔ ابوسعد کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ، ان شاء اللہ، میری امت کے مہاجرین کے لیے کافی ہو گا، اور اللہ ہمارے اعرابیوں میں سے بھی پورا کرے گا۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، ثنا أَبِي، ح، وَحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَمْرُو بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيُّ، حَدَّثَهُ: أَنَّ قَيْسَ بْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَهُمْ: أَنَّ أَبَا سَعْدٍ الْخَيْرَ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُمْ بِقَرْقِيسْيَا: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا يَعُمُّ ذَلِكَ مُهَاجِرِينَا، وَيُوَفَّى ذَلِكَ لِطَائِفَةٍ مِنْ أَعْرَابِنَا»
ترجمہ
سیدنا ابوسعد خیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار لوگ داخل ہوں گے، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار مزید ہوں گے، یہ ہمارے مہاجرین کو شامل ہو گا، اور اس میں سے کچھ ہمارے اعرابیوں کی ایک جماعت کو بھی پورا کیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قِيرَاطٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يُونُسَ بْنَ حَلْبَسٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ إِلَى شِرَاءِ الضَّحَايَا فَأَشَارَ إِلَى كَبْشٍ لَهُ لَحْمٌ لَيْسَ بِالْمُرْتَفِعِ وَلَا الْمُتَّضِعِ، قَالَ: «اشْتَرِ هَذَا فَإِنَّهُ يُشْبِهُ كَبْشَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
یونس بن حلبس کہتے ہیں: میں ابوسعد خیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے نکلا، انہوں نے ایک ایسے مینڈھے کی طرف اشارہ کیا جس کا گوشت نہ زیادہ تھا نہ کم، اور کہا: یہ خرید لو، کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے مینڈھے سے مشابہت رکھتا ہے۔
وحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ حَلْبَسٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي سَعْدٍ الزُّرَقِيِّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
یونس بن حلبس کہتے ہیں: میں ابوسعد زرقی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا - اور اسی جیسی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا دُحَيْمُ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «النَّدَمُ تَوْبَةٌ، وَالتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابوسعد انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ندامت توبہ ہے، اور گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ فِرَاسِ الشَّعْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارَ وَغَلَتْ بِهِ الْمَرَاجِلُ»
ترجمہ
سیدنا ابوسعد خیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اس چیز سے وضو کرو جسے آگ نے چھوا ہو اور دیگچیوں میں ابالا گیا ہو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ مُهَاجِرِ بْنِ دِينَارٍ: أَنَّ أَبَا سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ مَرَّ بمروانَ بْنِ الْحَكَمِ يَوْمَ الدَّارِ وَهُوَ صَرِيعٌ، فَقَالَ أَبُو سَعْدٍ: " لَوْ أَعْلَمُ يَا ابْنَ الزَّرْقَاءِ، أَنَّكَ حَيٌّ لَأَجَزْتُ عَنكَ فَحَقَدَهَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ أَتَى بِهِ، فَقَالَ أَبُو سَعْدٍ: «احْفَظْ فِي وَصِيَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ: «وَمَا ذَاكَ؟» فَقَالَ: قَالَ: «احْفَظُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» وَكَانَ أَبُو سَعْدٍ زَوْجَ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ
ترجمہ
...ابوسعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن زرقاء! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم زندہ ہو تو میں تمہارے حق میں بہتر بات کرتا۔ عبدالملک بن مروان نے اس بات کو دل میں رکھ لیا۔ جب عبدالملک خلیفہ بنے تو انہیں بلایا گیا، ابوسعد نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی وصیت کو یاد رکھو۔ عبدالملک بن مروان نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ان کے نیکوکار کی قدر کرو اور ان کے برے کو معاف کر دو۔“ اور ابوسعد اسماء بنت یزید بن سکن بن عمرو بن حرام کے شوہر تھے۔