❮
❯
حدیث نمبر: 18981
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ مُهَاجِرِ بْنِ دِينَارٍ: أَنَّ أَبَا سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ مَرَّ بمروانَ بْنِ الْحَكَمِ يَوْمَ الدَّارِ وَهُوَ صَرِيعٌ، فَقَالَ أَبُو سَعْدٍ: " لَوْ أَعْلَمُ يَا ابْنَ الزَّرْقَاءِ، أَنَّكَ حَيٌّ لَأَجَزْتُ عَنكَ فَحَقَدَهَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ أَتَى بِهِ، فَقَالَ أَبُو سَعْدٍ: «احْفَظْ فِي وَصِيَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ: «وَمَا ذَاكَ؟» فَقَالَ: قَالَ: «احْفَظُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ» وَكَانَ أَبُو سَعْدٍ زَوْجَ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ
ترجمہ

مہاجر بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسعد انصاری رضی اللہ عنہ 'یوم الدار' کے موقع پر مروان بن حکم کے پاس سے گزرے جبکہ وہ زخمی پڑا تھا، تو ابوسعد نے کہا: اے ابن زرقاء! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم زندہ ہو تو میں تمہارا کام تمام کر دیتا۔ عبدالملک بن مروان نے اس بات کو دل میں رکھ لیا۔ جب عبدالملک خلیفہ بنے تو ابوسعد کو ان کے پاس لایا گیا، ابوسعد نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی وصیت کو یاد رکھو۔ عبدالملک بن مروان نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”ان کے نیکوکار کی قدر کرو اور ان کے برے کو معاف کر دو۔“ اور ابوسعد اسماء بنت یزید بن سکن بن عمرو بن حرام کے شوہر تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 18981
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 306، حدیث 777