کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوعبیداللہ مسلم بن مشکم کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدُ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مَا يَحِلُّ لِي وَمَا يَحْرُمُ عَلَيَّ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرِ وَصَوَّبَ، فَقَالَ: «نُوَيْبِتَةٌ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ أَوْ نُوَيْبِتَةُ شَرٍّ؟، قَالَ: «بَلْ نُوَيْبِتَةُ خَيْرٍ لَا تَأْكُلْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا ذَا نَابٍ مِنَ السَّبُعِ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ میرے لیے کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے۔ آپ ﷺ نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا، پھر فرمایا: ”نُویبتہ۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اچھی نُویبتہ ہے یا بری؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اچھی نُویبتہ ہے، پالتو گدھے کا گوشت مت کھا اور نہ کسی کچلی والے درندے کا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، بِمِثْلِ ذَلِكَ
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّا نُجَاوِرُ أَهْلَ الْكِتَابِ وَإِنَّهُمْ يَطْبُخُونَ فِي قُدُورِهِمْ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَيَشْرَبُونَ فِي آنِيَتِهِمُ الْخَمْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَكُلُوا فِيهِ وَاشْرَبُوا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ہم اہلِ کتاب کے پڑوس میں رہتے ہیں، وہ اپنی ہانڈیوں میں سور کا گوشت پکاتے ہیں اور اپنے برتنوں میں شراب پیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے سوا کچھ اور مل جائے تو اس میں کھاؤ پیو، اور اگر ان کے سوا کچھ نہ ملے تو انہیں پانی سے دھو لو، پھر ان میں کھاؤ اور پیو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي وَمَا يَحْرُمُ عَلَيَّ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَهُ، وَقَالَ: «الْبِرُّ مَا سَكَنَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا لَمْ تَسْكُنْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَلَمْ يَطْمَئِنْ إِلَيْهِ الْقَلْبُ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ میرے لیے کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے۔ آپ ﷺ نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا، پھر فرمایا: ”نیکی وہ ہے جس پر دل مطمئن ہو جائے اور طبیعت سکون پائے، اور گناہ وہ ہے جس پر دل مطمئن نہ ہو اور طبیعت سکون نہ پائے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُبَيْدِ اللهِ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ، يَقُولُ: ثنا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَعَسْكَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَانُ» فَكَانُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى أَنَّكَ لَتَقُولُ: لَوْ بُسِطَتْ عَلَيْهِمْ كِسَاءٌ لَعَمَّهُمْ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو وہ گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاتے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”یہ تو شیطان کا کام ہے۔“ چنانچہ اس کے بعد جب وہ کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو ایک دوسرے کے قریب اکٹھے ہو جاتے، یہاں تک کہ تُو کہتا کہ اگر ان پر ایک چادر بچھا دی جائے تو وہ سب کو ڈھانپ لے، یا اسی طرح کی کوئی بات۔