کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جبیر بن نفیر کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، رَفَعَهُ مُعَاوِيَةُ مَرَّةً، وَلَمْ يَرْفَعْهُ أُخْرَى «إِنَّ اللهَ لَا يُعْجِزُ هَذِهِ الْأُمَّةَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ وَإِذَا رَأَيْتَ الشَّامَ مَائِدَةَ رَجُلٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَعِنْدَ ذَلِكَ تُفْتَحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے — بعض اوقات راوی معاویہ نے اسے مرفوع بیان کیا اور بعض اوقات مرفوع نہیں کیا — کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس امت کو آدھے دن سے عاجز نہیں کرے گا، اور جب تم شام کو کسی آدمی اور اس کے گھر والوں کا دسترخوان دیکھو گے تو اسی وقت قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجِنُّ عَلَى ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: صِنْفٌ لَهُمْ أَجْنِحَةٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ، وَصِنْفٌ حَيَّاتٌ، وَصِنْفٌ يَحِلُّونَ وَيَظْعَنُونَ "
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جن تین قسموں کے ہیں: ایک قسم کے پر ہیں جن سے وہ ہوا میں اڑتے ہیں، ایک قسم سانپ کی صورت میں ہیں، اور ایک قسم وہ ہیں جو زمین پر بستے اور کوچ کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَقِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَأَصَابَهُمْ جُوعٌ، فَأَصَابُوا فِيهَا حُمُرًا مِنْ حُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَذَبَحَ النَّاسُ مِنْهَا فَحَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَنَادَى فِي النَّاسِ، إِنَّ لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ لَا تَحِلُّ لِمَنْ شَهِدَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفُوا قُدُورَهُمْ بِمَا فِيهَا فَوَجَدُوا فِي جِنَانِها بَصَلًا وَثُومًا فَأَكَلُوا مِنْهُ وَهُمْ جِيَاعٌ فَجَهِدُوا، فَلَمَّا رَاحَ النَّاسُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِذَا رِيحُ الْمَسْجِدِ بَصَلٌ وَثُومٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبْنَا»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ خیبر میں شرکت کی، تو لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی، انہیں وہاں کچھ پالتو گدھے ملے تو لوگوں نے ان میں سے (کچھ) ذبح کر لیے۔ نبی کریم ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، چنانچہ انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا: پالتو گدھوں کا گوشت اس شخص کے لیے حلال نہیں جو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ تو لوگوں نے اپنی ہانڈیاں ان میں موجود (گوشت) سمیت الٹ دیں۔ پھر انہوں نے وہاں کے باغات میں پیاز اور لہسن پایا، وہ بھوکے تھے تو انہوں نے اس میں سے کھا لیا اور (اس سے) تکلیف میں پڑ گئے۔ جب لوگ مسجد کی طرف گئے تو مسجد میں پیاز اور لہسن کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو اس بدبودار درخت (پیاز، لہسن) میں سے کچھ کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ: «يَأْكُلُ إِلَّا أَنْ يُنْتِنَ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنا شکار تین دن بعد پائے: ”وہ اسے کھا سکتا ہے، الا یہ کہ وہ سڑ چکا ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، عَنِ الَّنبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَنْ يُعْجِزَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَ أُمَّتِي نِصْفَ يَوْمٍ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرا رب اس بات سے عاجز نہیں کہ میری امت کو آدھے دن تک مہلت دے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَا: ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَالنَّاسُ جِيَاعٌ فَوَجَدَ فِيهَا حُمُرًا مِنْ حُمُرِ الْإِنْسِ فَذَبَحَ النَّاسُ مِنْهَا فَحَدَّثَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ إِنَّ لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ لِمَنْ لَا يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ فَكَفُوا قُدُورَهُمْ بِمَا فِيهَا وَوَجَدُوا فِي جِنَانِهَا بَصَلًا وَثُومًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبْنَا» وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ النُّهْبَةُ وَلَا يَحِلُّ مِنَ السِّبَاعِ كُلُّ ذِي نَابٍ وَلَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ»
ترجمہ
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ خیبر میں شرکت کی، اور لوگ بھوکے تھے، انہیں وہاں کچھ پالتو گدھے ملے تو لوگوں نے ان میں سے (کچھ) ذبح کر لیے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، چنانچہ انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا کہ پالتو گدھوں کا گوشت اس کے لیے ہے جو یہ گواہی نہیں دیتا کہ میں اللہ کا رسول ہوں، تو لوگوں نے اپنی ہانڈیاں جو ان کے گوشت سے بھری تھیں الٹا دیں، اور انہوں نے وہاں کے باغات میں پیاز اور لہسن پایا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اس درخت میں سے کچھ کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوٹ مار حلال نہیں، اور درندوں میں سے کوئی کچلی والا حلال نہیں، اور باندھ کر تیر مارا جانے والا جانور بھی حلال نہیں۔“