المعجم الكبير للطبراني
باب اللام ألف— حرف لام الف
جبير بن نفير، عن أبي ثعلبة باب: جبیر بن نفیر کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَقِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَأَصَابَهُمْ جُوعٌ، فَأَصَابُوا فِيهَا حُمُرًا مِنْ حُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَذَبَحَ النَّاسُ مِنْهَا فَحَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَنَادَى فِي النَّاسِ، إِنَّ لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ لَا تَحِلُّ لِمَنْ شَهِدَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَفُوا قُدُورَهُمْ بِمَا فِيهَا فَوَجَدُوا فِي جِنَانِها بَصَلًا وَثُومًا فَأَكَلُوا مِنْهُ وَهُمْ جِيَاعٌ فَجَهِدُوا، فَلَمَّا رَاحَ النَّاسُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِذَا رِيحُ الْمَسْجِدِ بَصَلٌ وَثُومٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبْنَا»سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ خیبر میں شرکت کی، تو لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی، انہیں وہاں کچھ پالتو گدھے ملے تو لوگوں نے ان میں سے (کچھ) ذبح کر لیے۔ نبی کریم ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، چنانچہ انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا: پالتو گدھوں کا گوشت اس شخص کے لیے حلال نہیں جو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ تو لوگوں نے اپنی ہانڈیاں ان میں موجود (گوشت) سمیت الٹ دیں۔ پھر انہوں نے وہاں کے باغات میں پیاز اور لہسن پایا، وہ بھوکے تھے تو انہوں نے اس میں سے کھا لیا اور (اس سے) تکلیف میں پڑ گئے۔ جب لوگ مسجد کی طرف گئے تو مسجد میں پیاز اور لہسن کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو اس بدبودار درخت (پیاز، لہسن) میں سے کچھ کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے۔“