المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بيان بن بشر، عن قيس بن أبي حازم باب: بیان بن بشر کی قیس بن ابی حازم سے روایات
حدیث نمبر: 18072
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «مَا تَصْنَعُ؟ لَيْسَ بِضَارِّكَ» ، قُلْتُ: أَلَا أَقْتُلُ ابْنَ صَيَّادٍ؟ قَالَ: «مَا تَصْنَعُ بِقَتْلِهِ؟ إِنْ كَانَ هُوَ الدَّجَّالُ فَلَنْ تَخْلُصَ إِلَى قَتْلِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الدَّجَّالَ فَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟»ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی نے سوال نہیں کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کرو گے؟ وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ میں نے عرض کیا: کیا میں ابن صیاد کو قتل نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اسے قتل کرنے سے کیا حاصل ہو گا؟ اگر وہ دجال ہوا تو تم اسے قتل نہیں کر سکو گے، اور اگر وہ دجال نہ ہوا تو اس کے قتل کرنے سے تمہیں کیا فائدہ؟“