کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا منکدر ابومحمد تیمی، قریشی تیم قبیلے سے، رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ طَافَ حَوْلَ الْبَيْتِ أُسْبُوعًا لَا يَلْغُو فِيهِ كَانَ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ يُعْتِقُهَا»
ترجمہ
محمد بن منکدر اپنے والد سیدنا منکدر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بیت اللہ کا سات چکروں میں طواف کرے اور اس میں کوئی لغو بات نہ کرے، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے ایک غلام آزاد کیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمِهْرِقَانِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجَمَلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ هُنَيْهَةٌ أَوْ سَاعَةٌ، وَالنَّاسُ يَنْتَظِرُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: «مَا تَنْتَظِرُونَ؟» قَالُوا: نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، قَالَ: «أَمَا أَنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا» ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا صَلَاةٌ لَمْ يُصَلِّهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ» ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَانُ السَّمَاءِ، فَإِنْ طُمِسَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا يُوعَدُونَ، وَأَنَا أَمَانُ أَصْحَابِي فَإِذَا قُبِضْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَانُ أُمَّتِي، فَإِذَا قُبِضَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ، يَا بِلَالُ أَقِمْ»
ترجمہ
محمد بن منکدر اپنے والد سیدنا منکدر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک رات نکلے، آپ ﷺ نے عشاء کی نماز میں رات کا کچھ حصہ گزرنے تک تاخیر کر دی تھی، اور لوگ مسجد میں انتظار کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہو گے، نماز ہی میں شمار ہوتے رہو گے۔“ پھر فرمایا: ”یہ ایسی نماز ہے جو تم سے پہلے کسی امت نے نہیں پڑھی۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: ”ستارے آسمان کی حفاظت کا ذریعہ ہیں، اگر ستارے مٹ جائیں تو آسمان کو وہ (آفت) آ پہنچے گی جس کا اسے وعدہ دیا گیا ہے، اور میں اپنے صحابہ کی حفاظت کا ذریعہ ہوں، جب مجھے اٹھا لیا جائے گا تو میرے صحابہ کو وہ (آزمائش) آ پہنچے گی جس کا انہیں وعدہ دیا گیا ہے، اور میرے صحابہ میری امت کی حفاظت کا ذریعہ ہیں، جب میرے صحابہ اٹھا لیے جائیں گے تو میری امت کو وہ (فتنہ) آ پہنچے گا جس کا اسے وعدہ دیا گیا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے بلال! اقامت کہو۔“