کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا مہران، رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام، رضی اللہ عنہ (آپ کے نام میں اختلاف ہے، کہا گیا: کیسان یا ہرمز؛ امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک صحیح نام مہران ہے، کیونکہ ثوری اس کے راویوں میں زیادہ متقن ہیں)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ كُلْثُومِ بِنْتُ عَلِيٍّ، - وَأَتَيْتُهَا بِصَدَقَةٍ كَانَ أَمَرَ بِهَا فَقَالَتْ: احْذَرْ شَبَابَنَا، فَإِنَّ مَيْمُونًا أَوْ مِهْرَانًا مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مَيْمُونُ - أَوْ مِهْرَانُ - إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ نُهِينَا عَنِ الصَّدَقَةِ، وَإِنَّ مَوَالِينَا مِنْ أَنْفُسِنَا، فَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ»
ترجمہ
میمون یا مہران رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے میمون - یا مہران - ہم اہلِ بیت پر صدقہ لینا حرام کر دیا گیا ہے، اور ہمارے آزاد کردہ غلام بھی ہم ہی میں شمار ہوتے ہیں، لہٰذا صدقہ مت کھاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17961
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 354، حدیث 836
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَتْ: إِنَّ مَوْلًى لَنَا يُقَالُ لَهُ: كَيْسَانُ - أَوْ هُرْمُزُ - أَخْبَرَنِي، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَعَانِي فَجِئْتُ فَقَالَ: «يَا فُلَانُ، إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ نُهِينَا أَنْ نَأْخُذَ الصَّدَقَةَ، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ»
ترجمہ
سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کے پاس صدقے میں سے کچھ بھیجا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہمارے ایک آزاد کردہ غلام نے، جسے کیسان - یا ہرمز - کہا جاتا تھا، مجھے بتایا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرا۔ اس نے کہا: آپ ﷺ نے مجھے بلایا تو میں حاضر ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فلاں، ہم اہلِ بیت پر صدقہ لینا حرام کر دیا گیا ہے، اور کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں شمار ہوتا ہے، لہٰذا صدقہ مت کھاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17962
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 354، حدیث 837