حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ مَاعِزٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: " أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللهِ وَحْدَهُ، ثُمَّ الْجِهَادُ، ثُمَّ حَجَّةٌ بَرَّةٌ تَفْضُلُ سَائِرَ الْعَمَلِ كَمَا بَيْنَ مَطْلِعِ الشَّمْسِ إِلَى مَغْرِبِهَا»
ترجمہ
سیدنا ماعز تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لانا، پھر جہاد، پھر مقبول حج، جو باقی تمام اعمال سے اتنا افضل ہے جتنا مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَاعِزٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ» ، ثُمَّ أَرْعَدَتْ ثُمَّ قَالَ: مَهْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عَمَلٌ هُوَ أَفْضَلُ مِنْ سَائِرِ الْأَعْمَالِ إِلَّا كَمَثَلِ حَجَّةٍ بَارَّةٍ»
ترجمہ
سیدنا ماعز تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا، اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ پھر سائل کی ٹانگ کانپنے لگی، پھر اس نے کہا: پھر کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایک ایسا عمل جو باقی تمام اعمال سے افضل ہے سوائے مقبول حج کے مثل کے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، ثنا مَاعِزٌ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ» ، ثُمَّ أَرْعَدَتْ فَخِذُ السَّائِلِ فَقَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: «ثُمَّ عَمَلٌ أَفْضَلُ مِنْ سَائِرِ الْأَعْمَالِ إِلَّا كَمَثَلِ حَجَّةٍ بَارَّةٍ»
ترجمہ
سیدنا ماعز تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان، اور اس کی راہ میں جہاد۔“ پھر سائل کی ران کانپنے لگی، تو اس نے کہا: پھر کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایک عمل جو باقی تمام اعمال سے افضل ہے سوائے مقبول حج کے مثل کے۔“