کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: طارق بن شہاب احمسی کی سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ «جَزَّأَنَا عَشَرَةً فِي بَيْتٍ، عَشَرَةً فِي بَيْتٍ، فَكُنْتُ أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ عِنْدَنَا شَاةٌ نَقُوتُهَا»
ترجمہ
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، تو ”آپ ﷺ نے ہمیں تقسیم کیا، دس دس آدمی ایک ایک گھر میں، اور میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا، اور ہمارے پاس ایک بکری تھی جس سے ہم گزارا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلْنَا الْمَدِينَةَ عَشَّرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَشَرَةً فِي كُلِّ بَيْتٍ، فَكُنْتُ فِي الْعَشَرَةِ الَّذِينَ كَانَ النَّبِيُّ مِنْهُمْ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا شَاةٌ نَتَجَزَّأُ لَبَنَهَا، فَكُنَّا إِذَا أَبْطَأَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبْنَا، وَبَقَّيْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَبْطَأَ عَلَيْنَا، قَالَ: وَنِمْنَا، فَقَالَ الْمِقْدَادُ: لَقَدْ أَطَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أُرَاهُ يَجِيءُ اللَّيْلَةَ، لَعَلَّ إِنْسَانًا دَعَاهُ، قَالَ: فَشَرِبْتُهُ، فَلَمَّا ذَهَبَ اللَّيْلُ جَاءَ فَدَخَلَ، فَلَمَّا دَخَلَ سَلَّمَ وَلَمْ يَشُدَّ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقَدَحِ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ شَيْئًا سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنَا اللَّيْلَةَ» فَوَثَبْتُ فَأَخَذْتُ السِّكِّينَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَخَرَجَ شَيْءٌ ثُمَّ شَرِبَ ثُمَّ نَامَ
ترجمہ
…شاید کسی نے آپ ﷺ کو بلا لیا ہو، (راوی کہتے ہیں:) تو میں نے وہ دودھ پی لیا۔ جب رات گزر گئی تو آپ ﷺ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے، داخل ہو کر سلام کیا مگر بلند آواز میں نہیں، پھر پیالے کی طرف کھڑے ہوئے، جب کچھ نہ پایا تو خاموش رہے، پھر فرمایا: ”اے اللہ! جس نے آج رات ہمیں کھلایا اسے تو کھلا۔“ تو میں اٹھا اور چھری لے کر آپ ﷺ کی طرف آیا، تو آپ ﷺ نے اس بکری کے تھن پر ہاتھ پھیرا تو کچھ دودھ نکل آیا، پھر آپ ﷺ نے پیا اور سو گئے۔