المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معقل بن أبي معقل الأسدي باب: سیدنا معقل بن ابی معقل اسدی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا مَعْقِلٍ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ لَا يَحُجَّ إِلَّا وَأَنَا مَعَهُ، فَحَجَّ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَلَمْ أُطِقْ، فَسَأَلْتُهُ جِدَادَ نَخْلِهِ فَقَالَ: هُوَ قُوتُ عِيَالِي، وَسَأَلْتُهُ بِكْرًا عِنْدَهُ فَقَالَ: هُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَسْتُ أُعْطِيكِهِ فَقَالَ: «أَبَا مَعْقِلٍ، مَا تَقُولُ أُمُّ مَعْقِلٍ؟» فَقَالَ: صَدَقَتْ، قَالَ: «أَعْطِهَا بِكْرَكَ فَإِنَّ الْحَجَّ سَبِيلُ اللهِ» ، فَأَعْطَاهَا بِكْرَهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ سَقِمْتُ وَكَبُرْتُ، وَأَخَافُ أَنْ لَا أُدْرِكَ الْحَجَّ حَتَّى أَمُوتَ، فَهَلْ شَيْءٌ يُجْزِئُ عَنِ الْحَجِّ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً» فَاعْتَمَرَتْ فِي رَمَضَانَسیدنا معقل بن ابی معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی والدہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابومعقل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے ساتھ ہی حج کریں گے، مگر وہ اپنی سواری پر اکیلے حج کے لیے چلے گئے اور مجھ میں ساتھ جانے کی طاقت نہ تھی، تو میں نے ان سے ان کے کھجوروں کی فصل مانگی، تو انہوں نے کہا: یہ تو میرے اہل و عیال کا رزق ہے۔ اور میں نے ان سے ان کے پاس موجود ایک جوان اونٹ مانگا، تو انہوں نے کہا: یہ اللہ کی راہ میں وقف ہے، میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابومعقل! ام معقل کیا کہتی ہیں؟“ انہوں نے کہا: وہ سچ کہتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنا جوان اونٹ دے دو، کیونکہ حج بھی اللہ کی راہ ہے۔“ تو انہوں نے اسے اپنا اونٹ دے دیا۔ تو انہوں نے عرض کیا: میں ایک ایسی عورت ہوں جو بیمار اور بوڑھی ہو چکی ہوں، اور مجھے ڈر ہے کہ میں حج نہ کر سکوں گی یہاں تک کہ مر جاؤں، تو کیا کوئی ایسی چیز ہے جو حج کے قائم مقام ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔“ تو انہوں نے رمضان میں عمرہ کیا۔