کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: مبارک بن فضالہ کی حسن (بصری) سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ أَتَى مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ مَعْقِلٌ: مَا أُرَانِي لِمَا بِي، وَسَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ أَحَدٍ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ، وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا، إِلَّا لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ - أَوْ قَالَ: مِنْ أَهْلِ النَّارِ - " قَالَ: فَهَلَّا حَدَّثْتَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ قَبْلَ هَذَا الْيَوْمِ؟ قَالَ: «لَوْلَا مَا بِي مَا حَدَّثْتُكَ»
ترجمہ
مبارک بن فضالہ رحمہ اللہ حسن (بصری) رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی اس بیماری میں عیادت کرنے آیا جس میں ان کی وفات ہوئی۔ اس نے پوچھا: آپ اپنے آپ کو کیسا پاتے ہیں؟ معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنی اس حالت میں امید نہیں (کہ بچ جاؤں)، اور میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناؤں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی۔ اس نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس کسی کو بھی کسی رعیت کا نگہبان بنایا جائے، وہ جس دن مرے اس حال میں مرے کہ وہ اس کے ساتھ خیانت کرنے والا ہو، مگر وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا - یا فرمایا: وہ جہنمیوں میں سے ہو گا۔“ اس نے کہا: تم نے مجھے یہ حدیث آج سے پہلے کیوں نہ سنائی؟ انہوں نے کہا: ”اگر میری یہ حالت نہ ہوتی تو میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17610
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 208، حدیث 476
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ، أَنَّهُ زَوَّجَ أُخْتَهُ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ عِنْدَهُ مَا كَانَتْ، ثُمَّ طَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً فَلَمْ يُرَاجِعْهَا حَتَّى انْقَضَتِ الْعِدَّةَ، فَهَوَاهَا وَهَوَتْهُ، ثُمَّ خَطَبَهَا مَعَ الْخُطَّابِ، فَقَالَ لَهُ: «يَا لُكَعُ، أَكْرَمْتُكَ بِهَا وَزَوَّجْتُكَهَا فَطَلَّقْتَهَا، وَاللهِ لَا تَرْجِعُ إِلَيْكَ أَبَدًا آخَرُ مَا عَلَيْكَ» ، فَعَلِمَ اللهُ حَاجَتَهُ إِلَيْهَا، وَحَاجَتُهَا إِلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: ٢٣٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ "، فَلَمَّا سَمِعَهَا مَعْقِلٌ قَالَ: «سَمْعًا لِرَبِّي وَطَاعَةً» ، ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ: «أُزَوِّجُكَ وَأُكْرِمُكُ»
ترجمہ
مبارک بن فضالہ رحمہ اللہ حسن (بصری) کے واسطے سے سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کیا۔ وہ اس کے ہاں جتنا عرصہ رہی رہی، پھر اس نے اسے ایک طلاق دے دی اور عدت پوری ہونے تک رجوع نہ کیا۔ پھر اس عورت کی خواہش اس کی طرف اور اس کی خواہش اس عورت کی طرف ہو گئی۔ پھر اس نے دوسرے پیغام دینے والوں کے ساتھ اس کا نکاح مانگا، تو معقل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”اے کمینے! میں نے تجھے اس کی عزت بخشی اور اس کا نکاح تجھ سے کیا، پھر تو نے اسے طلاق دے دی، اللہ کی قسم! وہ اب کبھی تیری طرف نہیں لوٹے گی، یہ میری طرف سے آخری بات ہے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی اس عورت کی طرف حاجت اور اس عورت کی اس شخص کی طرف حاجت کو جان لیا، چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو انہیں اپنے سابقہ شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو جبکہ وہ آپس میں دستور کے مطابق راضی ہو جائیں﴾ [البقرہ: 232] - آیت کے آخر تک۔ جب معقل رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سنی تو کہا: ”میں اپنے رب کا حکم سنتا اور مانتا ہوں۔“ پھر اس شخص کو بلایا اور کہا: ”میں تیرا نکاح کر دوں گا اور تیری عزت افزائی کروں گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17611
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 208، حدیث 477