المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الربيع بن صبيح، عن الحسن باب: ربیع بن صبیح کی حسن (بصری) سے روایات
حدیث نمبر: 17612
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ دَخَلَ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ ثَقِيلٌ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا الْحَالُ الَّتِي أَنَا عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اسْتَرْعَاهُ اللهُ رَعِيَّةً لَمْ يَحُطْ مَنْ وَرَاءَهَا بِالنَّصِيحَةِ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ» قَالَ: أَفَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ هَذَا؟ترجمہ
ربیع بن صبیح رحمہ اللہ حسن (بصری) رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس اس حال میں گیا کہ وہ سخت بیمار تھے۔ انہوں نے کہا: سنو، میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناؤں گا کہ اگر یہ حالت نہ ہوتی جس میں میں ہوں تو میں یہ حدیث تمہیں نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جسے بھی اللہ کسی رعیت کا نگہبان بنائے اور وہ اس کی خیرخواہی کے ساتھ حفاظت نہ کرے، وہ جہنمیوں میں سے ہو گا۔“ اس نے کہا: کیا یہ حدیث اس سے پہلے نہیں سنائی جا سکتی تھی؟