کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبدالسلام بن ابی جنوب کی حسن (بصری) سے روایات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ أَبِي الْجَنُوبِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَدِينَةُ مُهَاجِرِي وَمَضْجَعِي فِي الْأَرْضِ، حَقٌّ عَلَى أُمَّتِي أَنْ يُكْرِمُوا جِيرَانِي مَا اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ سَقَاهُ اللهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ» قُلْنَا: يَا أَبَا يَسَارٍ، مَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: «عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مدینہ میری ہجرت گاہ ہے اور زمین میں میری آرام گاہ ہے، میری امت پر یہ حق ہے کہ وہ میرے پڑوسیوں (اہلِ مدینہ) کی عزت کریں جب تک وہ کبیرہ گناہوں سے بچتے رہیں، اور جو ان میں سے ایسا نہ کرے، اللہ تعالیٰ اسے 'طینۃ الخبال' سے پلائے گا۔“ ہم نے عرض کیا: اے ابویسار! طینۃ الخبال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”یہ جہنمیوں کا نچوڑا ہوا فضلہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17604
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 205، حدیث 470
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ أَبِي الْجَنُوبِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ»
ترجمہ
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان اپنے غیروں کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں، ان کے خون ایک دوسرے کے برابر ہیں، کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ کوئی معاہد اپنے عہد کی مدت میں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17605
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 206، حدیث 471